تجزیہ کار عدنان عادل نے پاکستان کی آبادی، نوجوانوں کی بے روزگاری اور موجودہ معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں 30 سال سے کم عمر افراد آبادی کا 68 فیصد ہیں، جبکہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد روزگار کے مواقع سے محروم ہے۔عدنان عادل نے دعویٰ کیا کہ 48 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں اور ملک میں زراعت و صنعت کی پیداوار بھی کم ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق نوجوان آبادی کی اتنی بڑی تعداد پاکستان کے لیے ایک اہم معاشی قوت بن سکتی ہے، لیکن روزگار اور پیداواری شعبوں میں کمزوری کے باعث اس صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے، جبکہ دوسری جانب حکمران طبقے کے عیش و عشرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عدنان عادل کے بیان میں معاشی پالیسیوں، روزگار کے مواقع اور حکمرانوں کے اخراجات کے حوالے سے موجودہ صورتحال پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے، جبکہ دوسری جانب حکمران طبقے کے عیش و عشرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عدنان عادل کے بیان میں معاشی پالیسیوں، روزگار کے مواقع اور حکمرانوں کے اخراجات کے حوالے سے موجودہ صورتحال پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔



