تجزیہ کار صبیح کاظمی نے پاکستان کی امن و امان اور معاشی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں امن و امان کی صورتحال کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت بھی مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔صبیح کاظمی نے دعویٰ کیا کہ 100 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے وعدوں کے باوجود اب تک یہ سرمایہ کاری ملک میں نہیں آئی، جبکہ سعودی عرب کی جانب سے متوقع 15 ارب ڈالرز کے حوالے سے بھی سوالات موجود ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں سرمایہ کاری 52 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پاکستان کی جی ڈی پی عمران خان کے دور کے مقابلے میں آدھی رہ گئی ہے، جبکہ درجنوں کمپنیاں ملک چھوڑ کر جا چکی ہیں اور سی پیک منصوبہ بھی معطل ہے۔ ان کے مطابق معاشی مشکلات کے باعث ملک میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بے روزگاری کا سامنا کر رہی ہے۔صبیح کاظمی نے کہا کہ ملک میں بے روزگار بیٹھی جنریشن زی کے ممکنہ احتجاج سے حکمران طبقہ خوف زدہ ہے۔ ان کے بیان میں موجودہ معاشی پالیسیوں، سرمایہ کاری کے فقدان، روزگار کے مسائل اور امن و امان کی صورتحال پر کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پاکستان کی جی ڈی پی عمران خان کے دور کے مقابلے میں آدھی رہ گئی ہے، جبکہ درجنوں کمپنیاں ملک چھوڑ کر جا چکی ہیں اور سی پیک منصوبہ بھی معطل ہے۔ ان کے مطابق معاشی مشکلات کے باعث ملک میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بے روزگاری کا سامنا کر رہی ہے۔صبیح کاظمی نے کہا کہ ملک میں بے روزگار بیٹھی جنریشن زی کے ممکنہ احتجاج سے حکمران طبقہ خوف زدہ ہے۔ ان کے بیان میں موجودہ معاشی پالیسیوں، سرمایہ کاری کے فقدان، روزگار کے مسائل اور امن و امان کی صورتحال پر کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔



