مولانا فضل الرحمان پر تحریک انصاف کے اعتماد کے حوالے سے ایک طنزیہ سیاسی تبصرہ سامنے آیا ہے، جس میں اس اعتماد کو سانپ والے سوراخ میں انگلی ڈالنے سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اگر کسی شخص کو پہلے ہی معلوم ہو کہ سوراخ میں سانپ موجود ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اس میں انگلی ڈال دے، تو یہ ایک خطرہ مول لینے کے مترادف ہے۔ اسی مثال کے ذریعے مولانا فضل الرحمان پر پی ٹی آئی کے اعتماد پر تنقید کی گئی۔
یہ تبصرہ سیاسی حلقوں میں اتحاد، اعتماد اور سیاسی فیصلوں کے حوالے سے اختلافی نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم فراہم کردہ بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ الفاظ کس رہنما نے کہے یا کس مخصوص سیاسی پیش رفت کے تناظر میں کہے گئے۔



