ابرار قریشی نے تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جاری سیاسی کشمکش پر تبصرہ کرتے ہوئے چھبیس نومبر کے اسلام آباد واقعات کا حوالہ دیا ہے۔ ان کے مطابق، اس وقت دونوں کے درمیان مقابلہ وفاقی دارالحکومت کے بجائے تحریک انصاف کے سیاسی مرکز خیبرپختونخوا میں ہو رہا ہے۔ ابرار قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ انٹرنیٹ بحال ہونے کے بعد عوام کو صورتِ حال کے بارے میں مزید معلومات مل سکیں گی۔ انہوں نے موجودہ کشمکش کے نتائج کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا کہ آخر اس میں کامیابی کس فریق کو حاصل ہوگی۔
-
-
مولانا فضل الرحمان پر تحریک انصاف کے اعتماد کے حوالے سے ایک طنزیہ سیاسی تبصرہ سامنے آیا ہے، جس میں اس اعتماد کو سانپ والے سوراخ میں انگلی ڈالنے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر کسی شخص کو پہلے ہی معلوم ہو کہ سوراخ میں سانپ موجود ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اس میں انگلی ڈال دے، تو یہ ایک خطرہ مول لینے کے مترادف ہے۔ اسی مثال کے ذریعے مولانا فضل الرحمان پر پی ٹی آئی کے اعتماد پر تنقید کی گئی۔ یہ تبصرہ سیاسی حلقوں میں اتحاد، اعتماد اور سیاسی فیصلوں کے…
-
-
-
-