سحرش مان نے خیبر پختونخوا کے ان اضلاع میں قائم مشاورتی کونسل پر طنزیہ تبصرہ کیا ہے جہاں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کونسل میں ایک ایسے شخص کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جسے وفات پائے تین سال گزر چکے ہیں۔ سحرش مان نے اپنے بیان میں اس معاملے کو اجاگر کرتے ہوئے مشاورتی کونسل کی تشکیل اور اس میں شامل افراد کی تفصیلات پر سوال اٹھایا۔ ان کے بیان کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اگر کسی وفات یافتہ شخص کا نام واقعی کونسل میں شامل ہے تو اس سے متعلقہ…
-
-
صحافی انیق ناجی نے طاقت اور اختیار کی زیادہ سے زیادہ خواہش کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسروں کو ختم کرکے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔ ان کے مطابق جب کوئی شخص یا فریق دوسروں کو مسلسل پیچھے ہٹاتا یا ختم کرتا چلا جاتا ہے تو ان کی ذمہ داریاں بھی بالآخر اسی کے حصے میں آ جاتی ہیں۔ انیق ناجی نے اپنے بیان میں کہا کہ اختیارات کے ارتکاز کے ساتھ نقصانات، مشکلات اور محرومیوں کی ذمہ داری بھی ایک ہی فریق پر آ جاتی ہے۔ ان…
-
شمینہ پاشا نے ایک بیان میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اہم واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، بے نظیر بھٹو پر حملے اور آصف علی زرداری کی طویل قید کا ذکر کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا ان واقعات کو بھی متعلقہ شخصیات کے اپنے فیصلوں کا نتیجہ قرار دیا جائے گا؟ شمینہ پاشا نے اپنے بیان میں سوال کیا کہ کیا بھٹو نے خود کو پھانسی لگائی، کیا بے نظیر بھٹو نے خود پر حملہ کروایا اور کیا آصف علی زرداری نے خود کو گیارہ سال جیل میں رکھا؟ ان…
-
معروف تجزیہ کار معید پیرزادہ نے پاکستانی جرنیلوں کے حوالے سے ایک سخت تنقیدی بیان دیا ہے، جس میں انہوں نے ماضی میں سامنے آنے والی بعض باتوں کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔ معید پیرزادہ کا کہنا تھا کہ چند سال پہلے ایسی باتیں سن کر انہیں غصہ آتا تھا، تاہم اب انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ باتیں درست تھیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں پاکستانی جرنیلوں پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے پوری دنیا کو بے وقوف بنایا۔
-
سقوطِ ڈھاکہ کے تاریخی واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے ایک طنزیہ سیاسی تحریر سامنے آئی ہے، جس میں انیس سو اکہتر کے حالات اور موجودہ پاکستان کی سیاسی و ادارہ جاتی صورتحال کا موازنہ کیا گیا ہے۔ تحریر میں اس وقت کے آرمی چیف یحییٰ خان اور چیف جسٹس منیر کا ذکر کرتے ہوئے موجودہ آرمی چیف منیر اور چیف جسٹس یحییٰ کے ناموں کی مماثلت کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اسی تقابل کے ذریعے موجودہ حالات پر تنقید کی گئی ہے۔ بیان کے آخر میں موجودہ صورتحال کو سقوطِ ڈھاکہ کے دور سے بھی زیادہ تشویش ناک قرار دیا…
-
ابرار قریشی نے ملک کی سیاسی صورتحال پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایسا منظر بھی دیکھنے کو ملا جہاں ان کے بقول ہارے ہوئے لوگوں کی حکومت نے جیتنے والے لوگوں کی حکومت ختم کر دی۔ اپنے بیان میں انہوں نے سیاسی اقتدار کی تبدیلی پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے ملک میں جاری سیاسی صورتحال کی ایک مثال قرار دیا۔ ان کے تبصرے کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ حکومت کی تبدیلی اور عوامی مینڈیٹ کے درمیان تعلق پر بحث ہونی چاہیے۔
-
سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے ایمرجنسی سے متعلق ویڈیو جاری کیے جانے پر طنزیہ تبصرہ کیا ہے۔ ان کے بیان کے مطابق، ویڈیو جاری کرنے کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ بعد میں آصف علی زرداری اس معاملے سے انکار نہ کر سکیں۔ مطیع اللہ جان نے اپنے تبصرے میں مری معاہدے کا حوالہ بھی دیا اور معاہدوں سے متعلق اس جملے کا ذکر کیا کہ ’’معاہدے قرآنی صحیفے نہیں ہوتے۔‘‘ انہوں نے اس مثال کے ذریعے سیاسی معاہدوں اور وعدوں پر عمل درآمد کے حوالے سے طنز کیا۔
-
مولانا فضل الرحمان پر تحریک انصاف کے اعتماد کے حوالے سے ایک طنزیہ سیاسی تبصرہ سامنے آیا ہے، جس میں اس اعتماد کو سانپ والے سوراخ میں انگلی ڈالنے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر کسی شخص کو پہلے ہی معلوم ہو کہ سوراخ میں سانپ موجود ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اس میں انگلی ڈال دے، تو یہ ایک خطرہ مول لینے کے مترادف ہے۔ اسی مثال کے ذریعے مولانا فضل الرحمان پر پی ٹی آئی کے اعتماد پر تنقید کی گئی۔ یہ تبصرہ سیاسی حلقوں میں اتحاد، اعتماد اور سیاسی فیصلوں کے…
-
ناصر مدنی نے تعویذوں کے حوالے سے ایک چیلنج دیتے ہوئے کہا، ’’میرا چیلنج اے کہ جے تعویذاں نال کوئی مندا ہوئے تے، عمران خان نوں منا کے دکھاؤ۔ اس بیان کا اردو مفہوم یہ ہے کہ اگر تعویذوں کے ذریعے کوئی شخص مان جاتا ہے تو عمران خان کو منا کر دکھایا جائے۔ ناصر مدنی نے یہ بات چیلنج کے انداز میں کہی، جس میں تعویذوں کے ذریعے کسی کو منانے کے تصور پر طنز کیا گیا ہے۔ ان کے اس بیان میں عمران خان کا ذکر کرتے ہوئے تعویذوں کے دعووں کو عملی طور پر ثابت کرنے کا…
-