اسلام آباد: ریاض الحق نے اسلام آباد کے علاقے ای الیون میں نالے کے کنارے قائم دکانوں کی مسماری اور پانی کے راستے میں مبینہ رکاوٹ کے حوالے سے انتظامیہ پر تنقید کی ہے۔
ریاض الحق کے مطابق کمشنر اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد ای الیون پہنچے تو معلوم ہوا کہ نالے کے کنارے قائم چار سے پانچ دکانیں گرائی جائیں گی۔ ان کے بقول اسی دوران یہ بات سامنے آئی کہ نالے کا پانی جس راستے سے آگے نکلنا تھا، وہاں سینیٹر دلاور خان کا ریسٹ ہاؤس موجود ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریسٹ ہاؤس کی ایک دیوار اور کیبن پانی کے راستے میں رکاوٹ بن رہے تھے۔ ریاض الحق کے مطابق اسی دوران اسسٹنٹ کمشنر شالیمار کو پیغام موصول ہوا کہ کیبن انتظامیہ خود گرائے گی۔
ریاض الحق کا کہنا تھا کہ غریب افراد کی دکانیں تو گرا دی گئیں، لیکن طاقتور شخصیت سے منسوب کیبن کو گرایا نہیں جا سکا۔ انہوں نے اس صورتحال کو انتظامی کارروائی میں مبینہ دوہرے معیار سے تعبیر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر پانی کے راستے میں رکاوٹ موجود تھی تو اسے ہٹانے میں امتیاز کیوں برتا گیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ نالے کے پانی کی روانی میں رکاوٹ بننے والی تمام تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور غریب و بااثر افراد کے لیے یکساں قانون نافذ کیا جائے۔
واضح رہے کہ سینیٹر دلاور خان کے ریسٹ ہاؤس، کیبن اور انتظامیہ کے مبینہ فیصلے سے متعلق یہ تفصیلات ریاض الحق کے بیان پر مبنی ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق یا متعلقہ حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔
ریاض الحق کے مطابق کمشنر اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد ای الیون پہنچے تو معلوم ہوا کہ نالے کے کنارے قائم چار سے پانچ دکانیں گرائی جائیں گی۔ ان کے بقول اسی دوران یہ بات سامنے آئی کہ نالے کا پانی جس راستے سے آگے نکلنا تھا، وہاں سینیٹر دلاور خان کا ریسٹ ہاؤس موجود ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریسٹ ہاؤس کی ایک دیوار اور کیبن پانی کے راستے میں رکاوٹ بن رہے تھے۔ ریاض الحق کے مطابق اسی دوران اسسٹنٹ کمشنر شالیمار کو پیغام موصول ہوا کہ کیبن انتظامیہ خود گرائے گی۔
ریاض الحق کا کہنا تھا کہ غریب افراد کی دکانیں تو گرا دی گئیں، لیکن طاقتور شخصیت سے منسوب کیبن کو گرایا نہیں جا سکا۔ انہوں نے اس صورتحال کو انتظامی کارروائی میں مبینہ دوہرے معیار سے تعبیر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر پانی کے راستے میں رکاوٹ موجود تھی تو اسے ہٹانے میں امتیاز کیوں برتا گیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ نالے کے پانی کی روانی میں رکاوٹ بننے والی تمام تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور غریب و بااثر افراد کے لیے یکساں قانون نافذ کیا جائے۔
واضح رہے کہ سینیٹر دلاور خان کے ریسٹ ہاؤس، کیبن اور انتظامیہ کے مبینہ فیصلے سے متعلق یہ تفصیلات ریاض الحق کے بیان پر مبنی ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق یا متعلقہ حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔



