پاکستان کرکٹ ٹیم کے انگلینڈ کے دورے کے دوران سات کھلاڑیوں کو واپس بھیجنے کے فیصلے کے بعد بولنگ کوچ عمر گل کے مبینہ ردعمل نے کرکٹ حلقوں میں توجہ حاصل کرلی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عمر گل نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ٹیم کے ساتھ مزید کام نہ کرنے کا اعلان کیا۔
مبینہ طور پر عمر گل کا کہنا تھا کہ ٹیم سلیکشن پاکستان کرکٹ بورڈ اور متعلقہ حکام نے اپنی مرضی سے کی تھی، اس لیے سیریز کے دوران بڑی تعداد میں کھلاڑیوں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ بھی انہی کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق جس ٹیم کے وہ کوچ ہیں، اس کے کھلاڑیوں کو سیریز کے دوران ہٹانا ان کے لیے توہین کے مترادف ہے۔
رپورٹس کے مطابق عمر گل نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آدھی سے زیادہ ٹیم کو فارغ کر دیا جائے اور کوچ ٹیم کے ساتھ موجود رہے۔ انہوں نے مبینہ طور پر واضح کیا کہ اگر پی سی بی اپنا فیصلہ واپس لیتا ہے تو وہ کام جاری رکھنے پر غور کر سکتے ہیں، بصورتِ دیگر وہ کسی بھی صورت میں ٹیم کے ساتھ مزید کام نہیں کریں گے۔
مبینہ بیان کے مطابق عمر گل نے اس اقدام کو دنیا بھر میں غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیریز کے دوران کھلاڑیوں کو فارغ کرکے انہیں ہوٹل سے واپس بھیج دینا ٹیم کے نظم و ضبط اور انتظامی فیصلوں پر سوالات اٹھاتا ہے۔
ذرائع کے حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پی سی بی نے عمر گل کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم انہوں نے کام کرنے سے انکار کر دیا۔ ذرائع کے مطابق عمر گل بہت جلد پریس کانفرنس کے ذریعے تمام حقائق قوم کے سامنے رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ عمر گل کے استعفیٰ دینے اور ان کے آئندہ لائحہ عمل سے متعلق حتمی صورتحال ان کے باضابطہ بیان کے بعد مزید واضح ہوگی۔ فی الحال یہ تفصیلات میڈیا رپورٹس اور ذرائع سے منسوب اطلاعات کی بنیاد پر سامنے آئی ہیں۔
مبینہ طور پر عمر گل کا کہنا تھا کہ ٹیم سلیکشن پاکستان کرکٹ بورڈ اور متعلقہ حکام نے اپنی مرضی سے کی تھی، اس لیے سیریز کے دوران بڑی تعداد میں کھلاڑیوں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ بھی انہی کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق جس ٹیم کے وہ کوچ ہیں، اس کے کھلاڑیوں کو سیریز کے دوران ہٹانا ان کے لیے توہین کے مترادف ہے۔
رپورٹس کے مطابق عمر گل نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آدھی سے زیادہ ٹیم کو فارغ کر دیا جائے اور کوچ ٹیم کے ساتھ موجود رہے۔ انہوں نے مبینہ طور پر واضح کیا کہ اگر پی سی بی اپنا فیصلہ واپس لیتا ہے تو وہ کام جاری رکھنے پر غور کر سکتے ہیں، بصورتِ دیگر وہ کسی بھی صورت میں ٹیم کے ساتھ مزید کام نہیں کریں گے۔
مبینہ بیان کے مطابق عمر گل نے اس اقدام کو دنیا بھر میں غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیریز کے دوران کھلاڑیوں کو فارغ کرکے انہیں ہوٹل سے واپس بھیج دینا ٹیم کے نظم و ضبط اور انتظامی فیصلوں پر سوالات اٹھاتا ہے۔
ذرائع کے حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پی سی بی نے عمر گل کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم انہوں نے کام کرنے سے انکار کر دیا۔ ذرائع کے مطابق عمر گل بہت جلد پریس کانفرنس کے ذریعے تمام حقائق قوم کے سامنے رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ عمر گل کے استعفیٰ دینے اور ان کے آئندہ لائحہ عمل سے متعلق حتمی صورتحال ان کے باضابطہ بیان کے بعد مزید واضح ہوگی۔ فی الحال یہ تفصیلات میڈیا رپورٹس اور ذرائع سے منسوب اطلاعات کی بنیاد پر سامنے آئی ہیں۔



