تازہ خبریں

حسن افضل رانا کی دل کو چھو لینے والی تحریر: ہڑپہ کی بیٹی

“امّی! اگر میرا شوہر بھی ابّا جیسا نکلا تو۔ اگر میری زندگی بھی آپ جیسی ہو گئی تو؟”
ہڑپہ کی ایک بیٹی نے ماں کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے وہی خوف محسوس کیا، جو کبھی اُس کی ماں کی آنکھوں میں تھا۔
ماں نے ایک گہرا سانس لیا، اٹھ کر بیٹھ گئی اور کھڑکی سے باہر جھانکنے لگی۔ اُس کے بیتے ہوئے پچیس سال اُس کی آنکھوں کے سامنے ایک ڈراؤنی فلم کی مانند گزرنے لگے۔
ایک ایک منظر…
ایک ایک زخم…
جیسے بد قسمتی نے اُس کی زندگی اپنے ہاتھوں سے لکھی ہو۔
پھر اُس نے دھیرے سے اپنی بیٹی کی طرف دیکھا اور بولی:
“تمہاری نانی کے منہ میں زبان ہی نہیں تھی۔ تمہارے نانا نے جو کہا، اُس نے برداشت کر لیا۔”
مجھے یاد پڑتا ہے میری منگنی کے بعد جب تمہارے نانا کے دوستوں نے اُنہیں بتایا تھا کہ:
“لڑکا کام کا نہ کاج کا، صرف دشمنِ اناج کا ہے۔”
تو تمہارے نانا نے انہیں جواب دیا تھا کہ:
“بس ہم نے زبان دی ہے اُن کو، اب یہ شادی ہر صورت ہوگی، ورنہ خاندان والے کیا کہیں گے کہ چوہدری اپنی زبان سے پھر گیا۔”
ماں کی آواز اور بھاری ہونے لگی۔
تمہارے نانا نے یہ کہتے وقت شاید ایک لمحے کو بھی میرا نہیں سوچا۔ اُسے شاید صرف اپنی زبان کی لاج کی فکر تھی۔
بیٹا! اُن کی زبان کی لاج میں، اُن کی موت کے بعد، میں نے بخوشی اپنی شادی قبول کر لی۔
جس دن رخصتی ہوئی، میں سمجھتی تھی کہ سب کچھ بدل جائے گا۔ مگر میرے شوہر نے پہلے ہی مہینے اپنے رنگ دکھانا شروع کر دیے۔ بات بات پر طعنے مارنے شروع کر دیے کہ:
“تمہارے گھر والوں نے جہیز میں کیا دیا ہے؟ ایک پنکھا تک نہیں دیا۔”
یہ کہتے ہوئے ماں کی آنکھیں بھر آئیں۔ اُس نے لرزتے ہاتھوں سے اپنے آنسو صاف کیے اور پھر بولی:
“میں اُسے کیسے بتاتی کہ میرے باپ نے مرنے سے پہلے میرا سارا فرنیچر، پیٹیوں اور پیٹیوں کا سارا سامان اپنی اچانک موت سے پہلے ہی بنا دیا تھا۔ بس ایک پنکھا لینا رہ گیا تھا جو اُن کی موت کے بعد نہ لے کر دے سکے۔”
شاید کہیں نہ کہیں تمہارے نانا کو اپنی زبان کی لاج کا دکھ اندر ہی اندر کھا گیا تھا۔ اسی لیے میری شادی سے پہلے ہی موت کو گلے لگا لیا۔
وہ چند لمحے خاموش رہی، جیسے دل کے کسی اور زخم پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔
پھر دھیرے سے بولی:
“کچھ عرصے بعد تمہاری نانی مری تو تمہارے ابّا نے کہا:
“جاؤ… اپنے بھائیوں سے جائیداد کا حصہ مانگو۔”
میں ساری رات روتی رہی۔
حق مانگنا آسان ہوتا ہے، مگر اپنے بھائیوں سے، اپنی رضا کے بغیر مانگنا… مشکل ہے بڑا مشکل ہے۔
“میں یہ نہیں کہتی کہ اپنا حق نہیں مانگنا چاہیے، مگر یہ حق صرف مجھے حاصل ہونا چاہیے تھا، نہ کہ میرا شوہر مجھ پر مسلط کرے۔”
یہ کہہ کر ماں خاموش ہو گئی۔
کمرے میں ایسی خاموشی پھیل گئی جیسے دیواریں بھی اُن کے درد سن رہی ہوں۔
بیٹی نے آہستہ سے کہا،
“ماں… کہاں کھو گئیں؟”
ماں چونک کر حقیقت میں واپس آئی۔ پھر اُس نے بیٹی کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا اور دھیرے سے بولی:
“بیٹا! میں نے ساری عمر یہی دعا کی ہے کہ تمہاری قسمت میری جیسی نہ ہو…”
یہ کہتے کہتے وہ دھاڑیں مار کر رونے لگی۔
پھر روتے روتے بولی:
“تمہارے مقدر میں کوئی مرد تمہارے ابّا جیسا نہ ہو۔”
بیٹی نے نم آنکھوں سے پوچھا:
“آپ ہر ظلم پر خاموش کیوں رہیں، امّی؟ آپ نے کبھی انہیں چھوڑ کیوں نہیں دیا؟”
ماں ہلکا سا مسکرائی۔
وہ مسکراہٹ… جس میں دکھ ہی دکھ تھا۔
پھر وہ بولی:
“کیونکہ مجھے بچپن سے ہی یہی سکھایا گیا تھا کہ عورت گھر بچاتی ہے، چاہے خود ٹوٹ جائے بکھر جائے۔”
خاندان والے یہی کہتے تھے کہ
“جس گھر میں تم بیاہ کے جا رہی ہو وہاں سے اب تمہارا جنازہ ہی اٹھے۔ دیکھ لو… میں نبھا گئی… برداشت کر گئی… جنازہ میرا تیار ہے”
بیٹی کے آنسو ماں کے ہاتھوں پر گرنے لگے۔
کمرے میں پھر خاموشی پھیل گئی۔
پھر ماں نے بیٹی کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا، اُس کی پیشانی چومی اور بولی:
لیکن ایک بات تم بھی سن لو
“جو باتوں سے بھی تمہیں زہر دے اس کے ساتھ نہیں رہنا بلکہ طلاق لے کر الگ ہو جانا ہے کیونکہ زندگی دوبارہ نہیں ملنی۔”
بیٹا! محنت مزدوری کر لینا مگر زندہ ضرور رہنا اپنے خود کے لئے
یہ کہتے کہتے ماں کی آواز ٹوٹ گئی۔
مگر اُس کی آنکھوں میں پہلی بار اپنی بیٹی کے لیے ایک دعا نہیں، بلکہ ایک پر سکون زندگی نظر آ رہی تھی۔
ماں بول رہی تھی مگر بیٹی کا رو رو کر برا حال تھا۔
پھر بیٹی نے لرزتی آواز میں پوچھا:
“لوگ کیا کہیں گے، امّی؟”
ماں نے مضبوط آواز میں کہا۔
“لوگ نہ عورت کا درد بانٹتے ہیں۔ نہ اُس کی قبر میں اُترتے ہیں۔
اس لیے اپنی زندگی لوگوں کی باتوں پر مت قربان کرنا۔”
پھر ماں اٹھی۔
الماری سے اپنی پرانی کانچ کی چوڑیاں نکالیں۔
کیونکہ سونے کے کنگن کچھ تو گھر بنانے کے لیے اور کچھ کسی کنجری کو پہنانے کے لیے اتروا لیے گئے تھے۔
ماں نے وہ کانچ کی چوڑیاں بیٹی کی ہتھیلی پر رکھ دیں اور بولی:
یہ میری زندگی کی آخری نشانی ہے۔
یاد رکھنا…
“عورت سے زیور لے لو تو بھی وہ گزارا کر جاتی ہے، عورت بھوکی زندہ رہ سکتی ہے، مگر اگر اُسے عزت نہ دی جائے، تو وہ زندہ رہ کر بھی مر جاتی ہے۔”
بیٹی ماں کے گلے لگ کر پھر رو پڑی۔
پھر اُس نے وہی کانچ کی چوڑیاں واپس ماں کے ہاتھوں میں پہنا دیں اور کہا،
“ماں… اب مسکرا دو…”
ماں نے اُس کے سر پر ہاتھ رکھا اور دھیرے سے کہا:
“جو عورت اپنے آنسو ضبط کرتی رہتی ہے، وہ اندر ہی اندر روتی رہتی ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ اندر سے خالی ہو جاتی ہے، بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہے اور آہستہ آہستہ مرنے لگتی ہے۔ یاد رکھنا بیٹا! تم نے زندہ رہنا ہے زندہ۔”
یہ کہتے ہوئے وہ چارپائی پر ایسے لیٹ گئی، جیسے برسوں سے اپنے اندر جلتی ہوئی اُس جہنم سے خود کو آزاد کرنے جا رہی ہو۔
پھر آہستہ سے بولی،
“شاید… میں اپنی آزادی خود کبھی نہ دیکھ سکوں”
میں نے ماں کو دیکھا تو اُس نے دھیرے سے آنکھیں بند کر لیں، پھر جاتے جاتے ٹوٹی ہوئی آواز میں کہا:
“میرا بیٹا بھی اپنے باپ کی طرح عورت کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے اور اُس پر حکمرانی کرنا چاہتا ہے۔ کاش۔۔۔ وہ بھی اپنی عورت کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔”
(حسن افضل رانا)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *