قرار داد آل پارٹیز اجلاس
03 جون 2026
بمقام ایوانِ وزیر اعظم مظفرآباد
آج کے کل جماعتی اجلاس میں شامل سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین نے متفقہ طور پر درج ذیل قرار داد منظور کی: اس اجلاس میں شرکت کے لیے عوامی ایکشن کمیٹی کے قائدین کو بھی دعوت دی گئی تھی لیکن انتظار کے باوجود وہ اس مشاورتیں جمہوری عمل کا حصہ نہیں بنے۔
یہ اجلاس جموں و کشمیر کے عوام کی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کے حصول کے لیے جاری جائز جدوجہد کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبر و استبداد اور مظالم کی شدید مذمت کرتا ہے، نیز حریت قیادت اور سیاسی کارکنان کی غیر قانونی نظر بندی اور قید کو بھی قابلِ مذمت قرار دیتا ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں کی مذمت کرتا ہے۔
یہ اجلاس آزاد جموں و کشمیر میں جاری جمہوری تسلسل اور آئینی عمل کے تسلسل کو ریاستی استحکام کی بنیاد قرار دیتا ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ جمہوری اداروں کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے گا۔ یہ اجلاس اس بات پر زور دیتا ہے کہ سیاسی اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم اسے ریاستی نظم و نسق یا ادارہ جاتی عمل کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مزید برآں یہ اجلاس تمام سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ برداشت، مکالمے اور پرامن سیاسی جدوجہد کو فروغ دیں تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم رہے۔
یہ اجلاس آزاد جموں و کشمیر میں قومی سلامتی کے اداروں کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسے ریاستی استحکام کا اہم ستون قرار دیتا ہے۔ اجلاس اس امر پر تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ دشمن ملک بھارت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور منظم پروپیگنڈا کے ذریعے ریاستی اداروں اور جمہوری ڈھانچے کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے اور اعتماد کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو کسی صورت قابلِ برداشت نہیں ہے۔
یہ اجلاس قرار دیتا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات آئین اور قانون کے مطابق مقررہ مدت میں منعقد کیے جائیں گے۔ آزادانہ، منصفانہ، شفاف، غیر جانبدارانہ اور پرامن انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری انتظامی، قانونی اور سیکیورٹی اقدامات بروئے کار لائے جائیں تاکہ عوام بلا خوف و خطر، دباؤ یا مداخلت کے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر سکیں۔ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے، مؤخر کرنے، متاثر کرنے یا پٹری سے اتارنے کی کسی بھی کوشش کا قانون کے مطابق سختی سے سدِباب کیا جائے تاکہ جمہوری عمل کا تسلسل برقرار رہے۔
یہ اجلاس مہاجرین جموں و کشمیر کی تحریک آزادی کشمیر یعنی تحریکِ تکمیلِ پاکستان کیلئے لازوال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔ یہ اجلاس اس امر کو تسلیم کرتا ہے کہ مہاجرین مقیم پاکستان کی نمائندگی ایک تاریخی اور آئینی حقیقت ہے، تاہم بعض انتخابی پیچیدگیوں کو دور کیے جانے اور سیاسی جماعتوں کے لیے قابلِ قبول بنائے جانے کے لیے ضروری اصلاحات آئین کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے ذریعے عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔
یہ اجلاس قرار دیتا ہے کہ آئینی اصلاحات عوام کے منتخب نمائندوں کا خصوصی اختیار اور مینڈیٹ ہیں، لہذا، ایسی اصلاحات کا معاملہ قانون ساز اسمبلی پر چھوڑا جائے۔ تاہم اس سے قبل تمام متعلقہ فریقین بشمول سیاسی جماعتوں، بار ایسوسی ایشنز، بار کونسل، سول سوسائٹی اور آئینی ماہرین کی مشاورت سے ایک وسیع البنیاد مشاورت کا عمل شروع کیا جائے۔
جاری کنندہ
آل پارٹیز کانفرنس، مظفرآباد
آزاد جموں و کشمیر



