میرے لڑکپن کے دو ساتھی آج راولاکوٹ کی مٹی میں سو گئے، یہ صرف دو جنازے نہیں، خوابوں کا ماتم ہے!
آج صبح راولاکوٹ کے ڈی چوک سے آنے والی خبر نے مجھے اندر تک توڑ کر رکھ دیا۔ سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے شہید ہونے والوں میں دو ایسے نوجوان بھی شامل تھے جن کے ساتھ میری زندگی کے کئی برس، یادیں اور جذبات وابستہ ہیں۔ ایک چمبہ ناڑ کا رہائشی عاطف جرجیس اور دوسرا منگ چہڑھ سے تعلق رکھنے والا میرا پڑوسی اور لڑکپن سے جوانی تک کا ساتھی عادل رشید
عاطف جرجیس محض میرا ایک پرانا کلاس فیلو نہیں تھا۔ ہمارے بچپن کے کئی سال ایک ہی کلاس روم میں گزرے، ایک ہی اسکول کے گراؤنڈ میں کھیلتے، بھاگتے، ہنستے اور زندگی کے ابتدائی خواب دیکھتے ہوئے گزرے۔ وہ دن کتنے بے فکر تھے، ہمیں کیا معلوم تھا کہ ایک دن زندگی ہمیں اس مقام پر لے آئے گی جہاں اپنے ہی بچپن کے ساتھی کی موت کی خبر سن کر اس کے ساتھ گزارے ہوئے اسکول کے دن یاد کرتے ہوئے آنکھیں نم ہوں گی۔ عاطف کا تعلق ایک کاروباری خاندان سے تھا۔ جب کئی سال قبل آخری مرتبہ ملاقات ہوئی تو وہ اپنے کاروبار میں مصروف تھا۔ ایک عام نوجوان، اپنی زندگی اور مستقبل کے منصوبوں میں مگن۔
عادل رشید کے ساتھ میرا تعلق اس سے بھی زیادہ طویل اور قریبی تھا۔ وہ ہمارا پڑوسی تھا، ہم نے ایک ساتھ بچپن گزارا، کھیلوں میں شریک رہے، سماجی سرگرمیوں میں ساتھ رہے اور لڑکپن سے جوانی تک کا ایک بڑا حصہ ایک دوسرے کے ساتھ گزرا۔ عادل انتہائی ملنسار، ہنس مکھ، ہمدرد اور مہمان نواز انسان تھا۔
گزشتہ ماہ جب میں راولاکوٹ گیا تو رات کے آخری پہر منگ موڑ میں کئی گھنٹے عادل و دیگر ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا رہا۔ وہی ہنسی مذاق، وہی بے تکلفی، وہی اپنائیت اور وہی مہمان نوازی۔ اس ملاقات میں مجھے ذرا بھی احساس نہیں تھا کہ یہ اس کے ساتھ میری آخری نشست ہوگی۔ آج جب اس کی شہادت کی خبر سامنے آئی تو وہ پوری رات، اس کی باتیں اور اس کا مسکراتا چہرہ بار بار ذہن میں آتا رہا۔انسان بعض اوقات کسی ملاقات کی اہمیت اس وقت سمجھتا ہے جب دوبارہ ملنے کا امکان ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہوتا ہے۔
عادل اکلوتا بھائی تھا۔ اس کے والد محنت کش انسان ہیں، شفٹ پر اور اسپیشل پرمٹ پر کیری ڈبہ چلاتے ہیں۔ عادل کچھ عرصہ بیرون ملک بھی رہا اور شاید دو تین سال قبل ہی واپس آیا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے اس کی شادی ہوئی تھی۔ ابھی تو اس کی زندگی کا ایک نیا سفر شروع ہوا تھا، ابھی تو اس نے اپنے گھر اور خاندان کے لیے بہت سے خواب دیکھنے تھے۔ والدین کی امیدیں، شریکِ حیات کے ارمان اور ایک پورے خاندان کی خوشیاں اس نوجوان سے وابستہ تھیں۔ آج وہ سب کچھ ادھورا چھوڑ گیا۔
میں اپنی ذاتی واقفیت، برسوں کے تعلق اور ان دونوں نوجوانوں کو جاننے کی بنیاد پر پوری ذمہ داری سے کہہ سکتا ہوں کہ عاطف اور عادل مسلح یا دہشت گرد نہیں تھے۔ یہ عام شہری تھے، پرامن لوگ تھے، اپنے معاشرے سے تعلق رکھنے والے، سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے اور اپنے اپنے خاندانوں کی امیدیں تھے۔ ان کی زندگیوں کو کسی مسلح شناخت کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا میرے ذاتی مشاہدے اور واقفیت کے منافی ہوگا۔
ان کی موت نے مجھے صرف دو انسانوں کے بچھڑنے کا دکھ نہیں دیا، بلکہ اپنے ماضی کا ایک حصہ بھی چھین لیا ہے۔ عاطف کے ساتھ اسکول کے کلاس روم اور گراؤنڈ کی یادیں ہیں، عادل کے ساتھ محلے، کھیلوں، محفلوں اور دوستی کے بے شمار قصے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں میں نے زندگی کے ابتدائی مراحل میں اپنے سامنے پروان چڑھتے دیکھا۔ آج ان کے نام شہداء کی فہرست میں شامل ہیں اور میرے ذہن میں ان کے ساتھ گزرے ہوئے دن ایک ایک کرکے تازہ ہو رہے ہیں۔
گزشتہ پانچ ماہ سے آزاد کشمیر خصوصاً راولاکوٹ اور پونچھ کے حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، وہ کسی ایک خاندان، کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی ایک فریق کا مسئلہ نہیں رہا۔ یہ پورے معاشرے کا المیہ بن چکا ہے۔ ایک طرف ریاستی اتھارٹیز اپنی رٹ اور عمل داری کی بات کر رہی ہیں، دوسری طرف شہری اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ سویلین اموات کی تعداد ۹۵ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کے درجنوں اہلکار بھی شہید ہو چکے ہیں۔
دونوں طرف انسانی جانوں کا ضیاع اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اب حالات کو طاقت، ردعمل اور ضد کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے انسانی زندگی، سماجی امن اور مستقبل کے تناظر میں سمجھا جائے۔
ریاست اور شہریوں کا تعلق محض اختیار اور اطاعت کا نہیں، اعتماد، تحفظ، انصاف اور ذمہ داری کا بھی ہوتا ہے۔ حکومت اور ریاستی اداروں پر سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں، اختلاف اور احتجاج کے معاملات کو تحمل سے دیکھیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے انسانی جانیں ضائع ہوں یا معاشرے میں ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے مزید بڑھیں۔ اسی طرح احتجاج کرنے والوں اور ان کی قیادت پر بھی لازم ہے کہ انسانی جانوں، امن عامہ اور معاشرتی زندگی کے تحفظ کو اپنی جدوجہد کا بنیادی اصول بنائیں۔
یہ وقت ایک دوسرے کو شکست دینے یا اپنی اپنی برتری ثابت کرنے کا نہیں، ایک دوسرے کو سمجھنے کا ہے۔ مطالبات پر اختلاف ہو سکتا ہے،مؤقف مختلف ہو سکتے ہیں، ریاستی عمل داری اور عوامی حقوق کے حوالے سے سنجیدہ سوالات بھی موجودہو سکتے ہیں،مگر ان سب کاحل مکالمے، سیاسی تدبر اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل میں ہے۔ کوئی بھی ایسا راستہ اختیار نہیں کیا جانا چاہیے جس کی قیمت عام شہریوں کو اپنے بچوں، بھائیوں اور عزیزوں کی لاشوں کی صورت میں ادا کرنا پڑے۔
تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ آنے والا وقت فیصلہ کرے گا کہ کس کا مؤقف درست تھا، کس سے کہاں غلطی ہوئی اور کس کے فیصلوں نے حالات کو اس مقام تک پہنچایا۔ لیکن تاریخ جب اپنا فیصلہ سنائے گی تو عاطف واپس نہیں آئے گا، عادل اپنے گھر کا دروازہ نہیں کھولے گا، اس کے والد کو اس کا اکلوتا بیٹا نہیں ملے گا اور اس کی شریکِ حیات کو اس کا ہم سفر واپس نہیں ملے گا۔
یہی اس سارے المیےکاسب سےتکلیف دہ پہلو ہے کہ سیاسی مؤقف بدل سکتے ہیں، فیصلے واپس لیے جا سکتے ہیں، مذاکرات کے ذریعے تنازعات حل ہو سکتے ہیں، مگر مرنے والے کبھی واپس نہیں آتے۔
عاطف اور عادل! تم دونوں کی یادیں ہمارے ساتھ رہیں گی۔ ایک ہی کلاس روم، ایک ہی اسکول گراؤنڈ اور منگ موڑ کی وہ آخری رات اب ہمیشہ کے لیے ہمارے حافظے میں محفوظ رہیں گے۔ اللہ تم دونوں کی مغفرت فرمائے، تمہارے درجات بلند کرے اور تمہارے اہل خانہ کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔
کاش! تم دونوں آج بھی ہمارے درمیان ہوتے۔
کسی کے گھر کا چراغ بجھا کر کیا ملا تم کو
اندھیرا تو آخرکار پورے شہر میں پھیلے گا
خواجہ کاشف میر
۵ نومبر ۲۰۲۶ء



