آزاد کشمیر کے چیف سیکرٹری اور جیو نیوز کے نمائندے حیدر شیرازی کے درمیان راولاکوٹ اور کشمیر کی صورتحال سے متعلق سوالات پوچھنے پر تلخ جملوں کا تبادلہ سامنے آیا ہے۔
گفتگو کے دوران چیف سیکرٹری آزاد کشمیر سے منسوب جملہ سامنے آیا کہ “یہ ویڈیو میڈیا یا سوشل میڈیا پر آئی تو اچھا نہیں ہوگا۔” اس بیان کو صحافی حیدر شیرازی کے لیے دھمکی قرار دیا جا رہا ہے۔
اس معاملے پر صحافی غلام اویس نے سوال اٹھایا کہ کیا ایک بیوروکریٹ کو زیب دیتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر صحافیوں کو اس طرح دھمکیاں دے؟
اس سوال کے جواب میں چیف سیکرٹری آزاد کشمیر نے کہا کہ “صحافی کو زیب دیتا ہے کہ وہ ہراساں کرے؟ آپ ہراسمنٹ کر رہے ہیں۔”
واقعے کے بعد صحافیوں سے سرکاری افسران کے رویے، آزادی صحافت اور عوامی اہمیت کے معاملات پر سوالات اٹھانے کے حق سے متعلق بحث سامنے آئی ہے۔
راولاکوٹ اور کشمیر کی صورتحال سے متعلق صحافی کے سوالات پر ہونے والی یہ گفتگو اس بات کو نمایاں کرتی ہے کہ عوامی معاملات پر سوال پوچھنے اور سرکاری حکام کے جواب دینے کے طریقہ کار کے حوالے سے اختلافات کس طرح سامنے آ سکتے ہیں۔


