عثمان عتیق کا دھیرکوٹ میں انتخابی شکست اور اسٹیبلشمنٹ سے متعلق بیان۔
تازہ خبریں - سیاست

دھیرکوٹ میں شکست صرف ہمیں نہیں ہوئی، اسٹیبلشمنٹ اور فوج کو بھی ہوئی: عثمان عتیق

عثمان عتیق نے دھیرکوٹ میں انتخابی شکست کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس شکست کو صرف ان کی جماعت یا گروپ کی شکست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس شکست کا اثر اسٹیبلشمنٹ اور فوج پر بھی پڑا ہے۔

عثمان عتیق نے کہا کہ "دھیرکوٹ میں شکست صرف ہمیں نہیں ہوئی، اسٹیبلشمنٹ اور فوج کو بھی ہوئی ہے، چونکہ اُن کا لیبل ہم پر لگا تھا۔" ان کے بیان میں انتخابی نتائج کو وسیع تر سیاسی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کے گروپ کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ اور فوج کا تاثر یا لیبل جوڑا گیا تھا، اس لیے دھیرکوٹ میں آنے والے نتائج کو اس تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق شکست کے سیاسی اثرات صرف امیدواروں یا جماعت تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس سے وابستہ سیاسی تاثر رکھنے والے دیگر فریق بھی متاثر ہوتے ہیں۔

عثمان عتیق کے اس بیان کے بعد دھیرکوٹ کے انتخابی نتائج اور اس میں مختلف سیاسی قوتوں کے کردار پر بحث مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ ان کے مؤقف نے آزاد کشمیر کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے مبینہ کردار اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ اس کے تعلقات کے حوالے سے بھی نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *