برطانوی رکنِ پارلیمنٹ جیریمی کوربن نے عمران خان کی مسلسل حراست اور ان کے ساتھ کیے جانے والے مبینہ ناروا سلوک پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جیریمی کوربن نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان کی مسلسل حراست اور ان کے ساتھ کیا جانے والا حیران کن ناروا سلوک انسانی حقوق، جمہوریت اور بنیادی شائستگی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
جیریمی کوربن نے کہا کہ وہ عمران خان کی رہائی کے اپنے مطالبے کو ایک بار پھر دہراتے ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق عمران خان کی حراست کا معاملہ صرف پاکستان کی داخلی سیاست تک محدود نہیں بلکہ انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔
عمران خان کی حراست، ان کی صحت اور جیل میں انہیں حاصل طبی سہولیات کے معاملے پر پاکستان میں بھی سیاسی بحث جاری ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کے علاج، خاندان اور وکلا سے ملاقاتوں سمیت مختلف معاملات پر مسلسل تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
جیریمی کوربن کے تازہ بیان کے بعد عمران خان کی رہائی کا معاملہ ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں زیر بحث آیا ہے۔ ان کے بیان نے پاکستان میں سیاسی حقوق، جمہوری عمل اور زیر حراست سیاسی رہنماؤں کے ساتھ برتاؤ سے متعلق بحث کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔
جیریمی کوربن نے کہا کہ وہ عمران خان کی رہائی کے اپنے مطالبے کو ایک بار پھر دہراتے ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق عمران خان کی حراست کا معاملہ صرف پاکستان کی داخلی سیاست تک محدود نہیں بلکہ انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔
عمران خان کی حراست، ان کی صحت اور جیل میں انہیں حاصل طبی سہولیات کے معاملے پر پاکستان میں بھی سیاسی بحث جاری ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کے علاج، خاندان اور وکلا سے ملاقاتوں سمیت مختلف معاملات پر مسلسل تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
جیریمی کوربن کے تازہ بیان کے بعد عمران خان کی رہائی کا معاملہ ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں زیر بحث آیا ہے۔ ان کے بیان نے پاکستان میں سیاسی حقوق، جمہوری عمل اور زیر حراست سیاسی رہنماؤں کے ساتھ برتاؤ سے متعلق بحث کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔



