-
-
شوکت نواز میر نے اپنے بیان میں کہا کہ 12 افراد تو جا چکے ہیں، تاہم اگر باقی 41 نے بھی حالات کا ادراک نہ کیا تو قوم کے بدلتے ہوئے مزاج اور تیور سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔ انہوں نے 9 جون کو "یومِ جنون" قرار دیتے ہوئے عوامی ردعمل اور سیاسی شعور کی اہمیت پر زور دیا۔
-
آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں فیصل ممتاز راٹھور نے عوامی رہنما شوکت نواز میر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ گفتگو کے دوران فیصل ممتاز راٹھور نے آل پارٹیز کانفرنس (APC) کی باضابطہ دعوت دینے کے لیے شوکت نواز میر کے گھر آنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ تاہم، شوکت نواز میر نے حکومت کی اس سفارتی کوشش کا مثبت جواب دینے کے بجائے انتہائی محتاط اور دبے الفاظ میں ان کے گھر آنے اور دعوت قبول کرنے سے معذرت کر لی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے…
-
کشمیر کے نامور تاجر اور عوامی رہنما شوکت نواز میر نے حکومت اور سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (APC) کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے ایک "ڈرامہ" قرار دیا ہے۔ اپنے ایک دبنگ بیان میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اس نوعیت کے کسی بھی سیاسی ڈرامے کا حصہ بنیں گے اور نہ ہی احتجاجی کال سے پیچھے ہٹیں گے۔ شوکت نواز میر کا کہنا تھا کہ حکومت کو ہر صورت مہاجرین کی تمام 12 کی 12 نشستیں ختم کرنی ہوں گی اور وہ ایک بھی سیٹ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ یا کمپرومائیز…