صحافی حبیب اکرم نے پاکستان کے موجودہ سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تحریری بات کی اہمیت باقی نہیں رہی۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص حکمران حلقوں کو پسند ہو تو اسے کئی غلطیوں کے باوجود معاف کر دیا جاتا ہے، لیکن ناپسندیدہ افراد کی معمولی بات پر بھی سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ حبیب اکرم نے اپنے بیان میں تحریکِ انصاف اور اس جماعت کے قریب سمجھے جانے والے افراد کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بات برداشت نہیں کی جاتی، بلکہ اسے سننے سے بھی گریز کیا جاتا…