تجزیہ کار حبیب اکرم نے وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تجزیہ پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق شہباز شریف حکومت کو عمران خان سے سیاسی طور پر نمٹنے کے لیے دو بنیادی راستے دستیاب تھے۔
حبیب اکرم کے مطابق پہلا راستہ یہ تھا کہ حکومت عمران خان کے بیانیے سے زیادہ طاقتور سیاسی بیانیہ تشکیل دیتی، جبکہ دوسرا راستہ یہ تھا کہ ملک میں ایسی معاشی صورتحال پیدا کی جاتی جس سے عام آدمی کو محسوس ہوتا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن اس کی زندگی بہتر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ان دونوں میدانوں میں کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔ حبیب اکرم کے مطابق عمران خان کے جیل میں ہونے کے باوجود ملکی سیاست کا محور اب بھی ان کے گرد ہی گھوم رہا ہے۔
حبیب اکرم نے مزید کہا کہ شہباز شریف وزیراعظم ہیں لیکن حکومت کی توانائی کا بڑا حصہ اس سوال پر صرف ہو رہا ہے کہ عمران خان کیا کر رہے ہیں اور تحریک انصاف آگے کیا کرنے جا رہی ہے۔ ان کے تجزیے کے مطابق یہ صورتحال حکومت کی سیاسی حکمت عملی اور کارکردگی پر اہم سوالات اٹھاتی ہے۔
حبیب اکرم کے مطابق پہلا راستہ یہ تھا کہ حکومت عمران خان کے بیانیے سے زیادہ طاقتور سیاسی بیانیہ تشکیل دیتی، جبکہ دوسرا راستہ یہ تھا کہ ملک میں ایسی معاشی صورتحال پیدا کی جاتی جس سے عام آدمی کو محسوس ہوتا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن اس کی زندگی بہتر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ان دونوں میدانوں میں کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔ حبیب اکرم کے مطابق عمران خان کے جیل میں ہونے کے باوجود ملکی سیاست کا محور اب بھی ان کے گرد ہی گھوم رہا ہے۔
حبیب اکرم نے مزید کہا کہ شہباز شریف وزیراعظم ہیں لیکن حکومت کی توانائی کا بڑا حصہ اس سوال پر صرف ہو رہا ہے کہ عمران خان کیا کر رہے ہیں اور تحریک انصاف آگے کیا کرنے جا رہی ہے۔ ان کے تجزیے کے مطابق یہ صورتحال حکومت کی سیاسی حکمت عملی اور کارکردگی پر اہم سوالات اٹھاتی ہے۔



