حبیب اکرم کا پاکستان کے موجودہ سیاسی نظام اور تحریکِ انصاف سے متعلق بیان
تازہ خبریں - سیاست

حبیب اکرم کی موجودہ نظام پر تنقید، تحریکِ انصاف کی آواز برداشت نہ کرنے کا الزام

صحافی حبیب اکرم نے پاکستان کے موجودہ سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تحریری بات کی اہمیت باقی نہیں رہی۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص حکمران حلقوں کو پسند ہو تو اسے کئی غلطیوں کے باوجود معاف کر دیا جاتا ہے، لیکن ناپسندیدہ افراد کی معمولی بات پر بھی سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔

حبیب اکرم نے اپنے بیان میں تحریکِ انصاف اور اس جماعت کے قریب سمجھے جانے والے افراد کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بات برداشت نہیں کی جاتی، بلکہ اسے سننے سے بھی گریز کیا جاتا ہے۔ ان کے بقول سیاسی وابستگی اور پسند و ناپسند کی بنیاد پر مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف رویے اختیار کیے جاتے ہیں۔

ان کے اس بیان میں اختلافِ رائے، سیاسی برداشت اور اظہارِ خیال کی آزادی سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ حبیب اکرم کی تنقید کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ایک جمہوری معاشرے میں کسی کی بات کو صرف سیاسی وابستگی کی بنیاد پر رد کرنے کے بجائے اسے سننے اور اس پر دلیل کے ساتھ جواب دینے کی گنجائش ہونی چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *