سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال کے حوالے سے ایک معنی خیز بیان دیا ہے۔ انہوں نے مستقبل میں ہونے والی ممکنہ بڑی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ہونے والا ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق ملکی ترقی کے لیے ایک ری سیٹ ہوگا اور ایسے اقدامات کیے جائیں گے جو ملک کے انتظامی اور معاشی ڈھانچے پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے نئے صوبوں کے قیام اور مرکز کے مالیاتی حصے میں اضافے کی بھی بات کی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق دستاویزات تیار ہیں اور منصوبوں پر پہلے ہی غور کیا جاچکا ہے۔ ان کے مطابق ضلعی معیشت کے حوالے سے بھی مختلف سطحوں پر کام جاری ہے۔
سہیل وڑائچ نے کہا کہ رواں سال اصلاحات کا آغاز ہوگا جبکہ اگلے سال ان پر مکمل عمل درآمد شروع ہونے کی توقع ہے۔ ان کے بیان میں آنے والے دنوں میں کسی بڑی پیش رفت کے امکان کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب حالات ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں جہاں تبدیلی کے عمل کو روکنا آسان نہیں ہوگا۔ تاہم ان کی جانب سے بیان کی گئی تمام ممکنہ تبدیلیوں کی سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔
اگر واقعی انتظامی اور معاشی سطح پر بڑے پیمانے کی اصلاحات شروع ہوتی ہیں تو ان کے اثرات صوبوں، اضلاع اور وفاقی مالیاتی نظام تک پھیل سکتے ہیں۔ نئے صوبوں کے قیام جیسے معاملات تاہم آئینی، سیاسی اور انتظامی سطح پر وسیع مشاورت کے متقاضی ہوں گے۔
سہیل وڑائچ کے بیان کے بعد اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آنے والے دنوں میں کیا عملی اقدامات سامنے آتے ہیں اور ان کے بیان میں اشارہ کی گئی تبدیلیاں کس شکل میں حقیقت کا روپ دھارتی ہیں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق ملکی ترقی کے لیے ایک ری سیٹ ہوگا اور ایسے اقدامات کیے جائیں گے جو ملک کے انتظامی اور معاشی ڈھانچے پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے نئے صوبوں کے قیام اور مرکز کے مالیاتی حصے میں اضافے کی بھی بات کی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق دستاویزات تیار ہیں اور منصوبوں پر پہلے ہی غور کیا جاچکا ہے۔ ان کے مطابق ضلعی معیشت کے حوالے سے بھی مختلف سطحوں پر کام جاری ہے۔
سہیل وڑائچ نے کہا کہ رواں سال اصلاحات کا آغاز ہوگا جبکہ اگلے سال ان پر مکمل عمل درآمد شروع ہونے کی توقع ہے۔ ان کے بیان میں آنے والے دنوں میں کسی بڑی پیش رفت کے امکان کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب حالات ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں جہاں تبدیلی کے عمل کو روکنا آسان نہیں ہوگا۔ تاہم ان کی جانب سے بیان کی گئی تمام ممکنہ تبدیلیوں کی سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔
اگر واقعی انتظامی اور معاشی سطح پر بڑے پیمانے کی اصلاحات شروع ہوتی ہیں تو ان کے اثرات صوبوں، اضلاع اور وفاقی مالیاتی نظام تک پھیل سکتے ہیں۔ نئے صوبوں کے قیام جیسے معاملات تاہم آئینی، سیاسی اور انتظامی سطح پر وسیع مشاورت کے متقاضی ہوں گے۔
سہیل وڑائچ کے بیان کے بعد اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آنے والے دنوں میں کیا عملی اقدامات سامنے آتے ہیں اور ان کے بیان میں اشارہ کی گئی تبدیلیاں کس شکل میں حقیقت کا روپ دھارتی ہیں۔



