حاجی امتیاز کے مبینہ اغوا پر ابرار قریشی کا بیان۔
تازہ خبریں - سیاست

اگر منتخب رکن اسمبلی بھی اغوا ہو سکتا ہے تو عام آدمی کیا کرے گا؟ ابرار قریشی

پاکستان میں امن و امان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ابرار قریشی نے قومی اسمبلی کے رکن حاجی امتیاز کے مبینہ اغوا کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ابرار قریشی نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک منتخب رکن اسمبلی کو بھی نامعلوم افراد مبینہ طور پر اغوا کر سکتے ہیں تو عام شہری اپنے تحفظ کے حوالے سے کس پر اعتماد کرے گا۔ ان کے بیان میں ملک میں شہریوں کی سلامتی اور قانون کی بالادستی سے متعلق سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ریاست میں عوام کے جان و مال کا تحفظ بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر کسی منتخب نمائندے کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آنے کا دعویٰ سامنے آئے تو اس کی مکمل اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔

حاجی امتیاز سے متعلق واقعے کے حوالے سے اصل صورتحال اور ذمہ دار افراد کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا۔ اس لیے واقعے سے متعلق تمام دعووں کو حتمی حقیقت قرار دینے کے بجائے متعلقہ اداروں کی تحقیقات کا انتظار ضروری ہے۔

ابرار قریشی نے ملک میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کے احساس کو بھی اپنے بیان کا حصہ بنایا اور کہا کہ یہی حالات لوگوں کو ملک چھوڑنے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ تاہم پاکستان چھوڑنے کے خواہش مند افراد کی پچانوے فیصد تعداد سے متعلق ان کا دعویٰ کسی مستند اعداد و شمار کے بغیر ہے۔

واقعے نے ایک بار پھر ملک میں شہریوں، بالخصوص عوامی نمائندوں کے تحفظ، قانون کی عملداری اور امن و امان کی صورتحال پر بحث چھیڑ دی ہے۔ عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے ایسے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی اہم قرار دی جاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *