خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کے مستقبل اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حوالے سے مختلف سیاسی دعوے سامنے آئے ہیں۔ حکومت کے قریبی صحافیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک جیسے پیغامات کے ذریعے صوبائی حکومت میں ممکنہ تبدیلی سے متعلق بات کی گئی ہے۔
ان پیغامات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے اور سہیل آفریدی چار اکتوبر سے پہلے وزیراعلیٰ نہیں ہوں گے۔
حکومت کے قریبی صحافیوں کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ خیبر پختونخوا حکومت اور وزیراعلیٰ کو کالعدم تنظیموں اور دہشت گرد عناصر سے مبینہ رابطوں اور معاونت کے معاملے پر جواب دہ ہونا پڑے گا۔
سوشل میڈیا پر جاری بعض پیغامات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ سہیل آفریدی کی حکومت صوبے اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔ تاہم یہ تمام باتیں فی الحال متعلقہ صحافیوں کی جانب سے کیے گئے دعووں اور سیاسی مؤقف کے طور پر سامنے آئی ہیں۔
خیبر پختونخوا حکومت کے مستقبل اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے عہدے سے متعلق حتمی صورتحال کسی باضابطہ فیصلے یا سرکاری اعلان سے واضح ہوگی۔
ان پیغامات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے اور سہیل آفریدی چار اکتوبر سے پہلے وزیراعلیٰ نہیں ہوں گے۔
حکومت کے قریبی صحافیوں کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ خیبر پختونخوا حکومت اور وزیراعلیٰ کو کالعدم تنظیموں اور دہشت گرد عناصر سے مبینہ رابطوں اور معاونت کے معاملے پر جواب دہ ہونا پڑے گا۔
سوشل میڈیا پر جاری بعض پیغامات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ سہیل آفریدی کی حکومت صوبے اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔ تاہم یہ تمام باتیں فی الحال متعلقہ صحافیوں کی جانب سے کیے گئے دعووں اور سیاسی مؤقف کے طور پر سامنے آئی ہیں۔
خیبر پختونخوا حکومت کے مستقبل اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے عہدے سے متعلق حتمی صورتحال کسی باضابطہ فیصلے یا سرکاری اعلان سے واضح ہوگی۔



