سندھ کے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی صورتحال سے متعلق سرکاری اعداد و شمار سامنے آگئے ہیں، جن کے مطابق صوبے کے 40 ہزار 978 اسکولوں میں سے بڑی تعداد بجلی، بیت الخلا، پینے کے صاف پانی اور چار دیواری جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سندھ کے 68 فیصد اسکولوں میں بجلی کی سہولت موجود نہیں، جبکہ 58 فیصد اسکول بیت الخلا سے محروم ہیں۔ اسی طرح 37 فیصد اسکولوں میں پینے کے صاف پانی کی سہولت بھی دستیاب نہیں ہے۔
سرکاری اعداد و شمار میں مزید بتایا گیا ہے کہ صوبے کے 49 فیصد اسکولوں میں چار دیواری تک موجود نہیں۔ یہ صورتحال سندھ کے تعلیمی اداروں میں بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی اور طلبہ کو درپیش سہولیات کے مسائل کی نشاندہی کرتی ہے۔
تعلیمی اداروں میں بجلی، صاف پانی، بیت الخلا اور محفوظ چار دیواری جیسی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے سندھ کے اسکولوں کی حالت زار پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سندھ کے 68 فیصد اسکولوں میں بجلی کی سہولت موجود نہیں، جبکہ 58 فیصد اسکول بیت الخلا سے محروم ہیں۔ اسی طرح 37 فیصد اسکولوں میں پینے کے صاف پانی کی سہولت بھی دستیاب نہیں ہے۔
سرکاری اعداد و شمار میں مزید بتایا گیا ہے کہ صوبے کے 49 فیصد اسکولوں میں چار دیواری تک موجود نہیں۔ یہ صورتحال سندھ کے تعلیمی اداروں میں بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی اور طلبہ کو درپیش سہولیات کے مسائل کی نشاندہی کرتی ہے۔
تعلیمی اداروں میں بجلی، صاف پانی، بیت الخلا اور محفوظ چار دیواری جیسی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے سندھ کے اسکولوں کی حالت زار پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔



