عمر نظیر کشمیری نے کہا ہے کہ جبر کی بنیاد پر احتجاج کو ختم کروانے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں لیکن یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اول روز سے یہ کہتے آئے ہیں کہ یہ ایک عوامی تحریک ہے جو کسی ایک شخصیت، تنظیم یا نظریے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی تحریک ہے۔ انہوں نے ریاستی جبر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ درجنوں کو شہید کیا گیا تو لوگ لاکھوں کی تعداد میں نکل آئے۔ اب خاندانوں کو اغوا کر کے بیانات جاری کروانے پر مجبور کیا جا رہا ہے جو انتہائی گھناؤنی حرکت ہے۔ عمر نظیر کشمیری نے کہا کہ ان گھناؤنی حرکات پر کچھ تو شرم و حیا ہونی چاہیے۔ یہ تحریک عوام کی تحریک ہے اور کسی بھی جبر سے اسے نہیں دبایا جا سکتا۔



