سینیٹر مشتاق احمد خان نے جماعت اسلامی کے ساتھ اپنی طویل سیاسی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 37 سال تک جماعت اسلامی میں رہے، تاہم اس دوران ایک دن بھی جیل نہیں گئے۔ انہوں نے یہ بات اپنے سیاسی سفر اور بعد کی سرگرمیوں کے تناظر میں بیان کی۔
سینیٹر مشتاق احمد خان کے مطابق جماعت اسلامی چھوڑنے کے بعد وہ دو مرتبہ اسرائیلی جیل جاچکے ہیں۔ ان کا اشارہ فلسطین کے حق میں ہونے والی سرگرمیوں اور اسرائیلی حکام کی جانب سے حراست کے واقعات کی طرف تھا۔
انہوں نے اپنے بیان میں جماعت اسلامی میں گزارے گئے طویل عرصے اور اس کے بعد فلسطین سے متعلق اپنی سرگرمیوں کے درمیان فرق کو نمایاں کیا۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی سے علیحدگی کے بعد ان کی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی اور اسرائیلی اقدامات کے خلاف احتجاج سے متعلق رہا ہے۔
مشتاق احمد خان کا یہ بیان ان کی سیاسی زندگی اور فلسطین کے معاملے پر ان کے مؤقف کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ ان کے بیان میں جماعت اسلامی کے ساتھ 37 سالہ وابستگی اور اسرائیلی حراست کے تجربات دونوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
سینیٹر مشتاق احمد خان کے مطابق جماعت اسلامی چھوڑنے کے بعد وہ دو مرتبہ اسرائیلی جیل جاچکے ہیں۔ ان کا اشارہ فلسطین کے حق میں ہونے والی سرگرمیوں اور اسرائیلی حکام کی جانب سے حراست کے واقعات کی طرف تھا۔
انہوں نے اپنے بیان میں جماعت اسلامی میں گزارے گئے طویل عرصے اور اس کے بعد فلسطین سے متعلق اپنی سرگرمیوں کے درمیان فرق کو نمایاں کیا۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی سے علیحدگی کے بعد ان کی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی اور اسرائیلی اقدامات کے خلاف احتجاج سے متعلق رہا ہے۔
مشتاق احمد خان کا یہ بیان ان کی سیاسی زندگی اور فلسطین کے معاملے پر ان کے مؤقف کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ ان کے بیان میں جماعت اسلامی کے ساتھ 37 سالہ وابستگی اور اسرائیلی حراست کے تجربات دونوں کا ذکر کیا گیا ہے۔



