معاشی امور کے ماہر مزمل اسلم نے پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر اور معاشی شرحِ نمو سے متعلق حکومتی دعووں پر سوالات اٹھائے ہیں۔
مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ بلند ترین زرِ مبادلہ کے ذخائر کا دعویٰ کرنے والوں کو سعودی عرب کی جانب سے 8 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ ان کے مطابق چین نے بھی 8 ارب روپے صرف بینک میں رکھنے کے لیے دیے ہیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ تاریخ میں پہلی بار اسٹیٹ بینک نے اوپن مارکیٹ سے ڈالر خرید کر رکھے ہیں۔ مزمل اسلم نے ملکی شرحِ نمو کے اعداد و شمار پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ 4 سال کی اوسط شرحِ نمو 2.3 فیصد ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کی 80 سال کی اوسط شرحِ نمو بھی 4 فیصد بنتی ہے۔ مزمل اسلم کے بیان میں ملکی معاشی کارکردگی، زرِ مبادلہ کے ذخائر اور شرحِ نمو کے حوالے سے حکومتی مؤقف پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ بلند ترین زرِ مبادلہ کے ذخائر کا دعویٰ کرنے والوں کو سعودی عرب کی جانب سے 8 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ ان کے مطابق چین نے بھی 8 ارب روپے صرف بینک میں رکھنے کے لیے دیے ہیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ تاریخ میں پہلی بار اسٹیٹ بینک نے اوپن مارکیٹ سے ڈالر خرید کر رکھے ہیں۔ مزمل اسلم نے ملکی شرحِ نمو کے اعداد و شمار پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ 4 سال کی اوسط شرحِ نمو 2.3 فیصد ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کی 80 سال کی اوسط شرحِ نمو بھی 4 فیصد بنتی ہے۔ مزمل اسلم کے بیان میں ملکی معاشی کارکردگی، زرِ مبادلہ کے ذخائر اور شرحِ نمو کے حوالے سے حکومتی مؤقف پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔


