وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی فیملی کے کینیڈا میں رہنے اور ان کے بچوں کے وہاں زیرتعلیم ہونے سے متعلق دعویٰ سامنے آیا ہے۔ فراہم کردہ بیان میں مراد علی شاہ کے کینیڈا کے دورے سے متعلق ایک واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق مراد علی شاہ کینیڈا میں ایک بینک گئے جہاں انہیں قطار میں انتظار کرنا پڑا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ جب ان کی باری آئی تو بینک میں لنچ بریک ہوگیا اور انہیں مزید تقریباً آدھا گھنٹہ انتظار کرنا پڑا۔
اس واقعے کو بنیاد بنا کر سندھ کے تعلیمی نظام پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے تعلیمی اداروں کی صورتحال ایسی نہیں رہی کہ حکمرانوں کے بچے وہاں تعلیم حاصل کر سکیں یا ان کی فیملیز سندھ میں رہ سکیں۔
مؤقف میں مراد علی شاہ کے ساتھ ساتھ شریف خاندان، زرداری خاندان اور فوجی افسران کے خاندانوں کا بھی حوالہ دیتے ہوئے سیاسی اشرافیہ کے طرزِ زندگی اور پاکستان کے نظام پر تنقید کی گئی ہے۔
بیان کے اختتام پر پاکستان کی ترقی کے لیے حکمران طبقے کے طرزِ حکمرانی، مراعات اور مبینہ سیاسی اثر و رسوخ میں تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں کینیڈا میں بینک کے واقعے، فیملی کے قیام اور دیگر دعووں کی آزادانہ تصدیق شامل نہیں ہے
بیان کے مطابق مراد علی شاہ کینیڈا میں ایک بینک گئے جہاں انہیں قطار میں انتظار کرنا پڑا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ جب ان کی باری آئی تو بینک میں لنچ بریک ہوگیا اور انہیں مزید تقریباً آدھا گھنٹہ انتظار کرنا پڑا۔
اس واقعے کو بنیاد بنا کر سندھ کے تعلیمی نظام پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے تعلیمی اداروں کی صورتحال ایسی نہیں رہی کہ حکمرانوں کے بچے وہاں تعلیم حاصل کر سکیں یا ان کی فیملیز سندھ میں رہ سکیں۔
مؤقف میں مراد علی شاہ کے ساتھ ساتھ شریف خاندان، زرداری خاندان اور فوجی افسران کے خاندانوں کا بھی حوالہ دیتے ہوئے سیاسی اشرافیہ کے طرزِ زندگی اور پاکستان کے نظام پر تنقید کی گئی ہے۔
بیان کے اختتام پر پاکستان کی ترقی کے لیے حکمران طبقے کے طرزِ حکمرانی، مراعات اور مبینہ سیاسی اثر و رسوخ میں تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں کینیڈا میں بینک کے واقعے، فیملی کے قیام اور دیگر دعووں کی آزادانہ تصدیق شامل نہیں ہے



