میرپور( آزاد کشمیر) ڈسٹرکٹ بار کا ہنگامی اجلاس، میرپور کے واقعات کی شدید مذمت، عدالتی بائیکاٹ کا اعلان، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میرپور کے ہنگامی اجلاس میں گزشتہ روز میرپور اور راولاکوٹ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات پر گہرے رنج و غم اور شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی جانوں کے ضیاع کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ نہتے شہریوں پر طاقت کا استعمال، قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اور ریاستی جبر کی یہ صورتحال انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول ہے۔
بار کے رہنماؤں نے کہا کہ میرپور میں نہتی عوام کی شہادتیں ایک المناک انسانی سانحہ اور ریاستی جبر کی انتہا ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ریاستی عوام پر بلاجواز اور بلا اشتعال طاقت کا استعمال کرتے ہوئے موت برسائی جا رہی ہے، جس کی ڈسٹرکٹ بار میرپور بھرپور مذمت کرتی ہے۔قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ میرپور کے واقعہ کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور گرفتار وکلاء کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ مزید مطالبہ کیا گیا کہ ڈسٹرکٹ بار کے سابق صدر راجہ ذوالفقار ایڈووکیٹ کا نام فوری طور پر فورتھ شیڈول سے خارج کیا جائے۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ وکلاء برادری شہریوں کے بنیادی حقوق، قانون کی بالادستی اور انصاف کے تحفظ کے لیے اپنا آئینی و قانونی کردار ادا کرتی رہے گی اور کسی بھی قسم کی ناانصافی یا غیر قانونی اقدام پر خاموش نہیں رہے گی۔دریں اثناء، ڈسٹرکٹ بار کے سیکریٹری چوہدری زاہد ایڈووکیٹ نے بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر بار کونسل کی کال پر آج وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے اور عدالتی کارروائی کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج حالیہ واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد سے اظہار یکجہتی، متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور ذمہ داران کے خلاف مؤثر کارروائی کے مطالبہ کرتا ہے۔
بار کے رہنماؤں نے کہا کہ میرپور میں نہتی عوام کی شہادتیں ایک المناک انسانی سانحہ اور ریاستی جبر کی انتہا ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ریاستی عوام پر بلاجواز اور بلا اشتعال طاقت کا استعمال کرتے ہوئے موت برسائی جا رہی ہے، جس کی ڈسٹرکٹ بار میرپور بھرپور مذمت کرتی ہے۔قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ میرپور کے واقعہ کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور گرفتار وکلاء کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ مزید مطالبہ کیا گیا کہ ڈسٹرکٹ بار کے سابق صدر راجہ ذوالفقار ایڈووکیٹ کا نام فوری طور پر فورتھ شیڈول سے خارج کیا جائے۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ وکلاء برادری شہریوں کے بنیادی حقوق، قانون کی بالادستی اور انصاف کے تحفظ کے لیے اپنا آئینی و قانونی کردار ادا کرتی رہے گی اور کسی بھی قسم کی ناانصافی یا غیر قانونی اقدام پر خاموش نہیں رہے گی۔دریں اثناء، ڈسٹرکٹ بار کے سیکریٹری چوہدری زاہد ایڈووکیٹ نے بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر بار کونسل کی کال پر آج وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے اور عدالتی کارروائی کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج حالیہ واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد سے اظہار یکجہتی، متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور ذمہ داران کے خلاف مؤثر کارروائی کے مطالبہ کرتا ہے۔



