سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ" (Mecca Joint Defense Agreement) پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے ذریعے تینوں ممالک نے دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
معاہدے کی اہم شق کے مطابق اگر کسی ایک رکن ملک پر بیرونی مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اجتماعی دفاع کے حق کو استعمال کیا جا سکے گا۔
رپورٹس کے مطابق معاہدے کا مقصد دفاعی تعاون، مشترکہ ہم آہنگی اور علاقائی سلامتی کو فروغ دینا ہے۔ سعودی حکام نے اس معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسی نئے فوجی بلاک کی تشکیل یا دیگر بین الاقوامی اتحادوں کی جگہ لینے کے لیے نہیں ہے۔
معاہدے کی اہم شق کے مطابق اگر کسی ایک رکن ملک پر بیرونی مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اجتماعی دفاع کے حق کو استعمال کیا جا سکے گا۔
رپورٹس کے مطابق معاہدے کا مقصد دفاعی تعاون، مشترکہ ہم آہنگی اور علاقائی سلامتی کو فروغ دینا ہے۔ سعودی حکام نے اس معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسی نئے فوجی بلاک کی تشکیل یا دیگر بین الاقوامی اتحادوں کی جگہ لینے کے لیے نہیں ہے۔



