جسٹس ریٹائرڈ منصور علی شاہ نے پاکستان کی سیاسی اور آئینی تاریخ میں عدلیہ کے کردار پر سخت تنقید کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ "سب سے بڑا نقصان جرنیلوں یا افسر شاہی نے نہیں بلکہ ججوں نے پہنچایا۔"
جسٹس ریٹائرڈ منصور علی شاہ کے مطابق جب بھی ٹینک سڑکوں پر آئے، عدالتوں نے بار بار "ہاں" کہا۔
انہوں نے کہا کہ عدالتوں نے اقتدار پر قبضے کو قانونی جواز دینے کے لیے "نظریۂ ضرورت" تراشا، غاصبوں سے حلف لیے اور آئین شکنی کو قانون کا روپ
دیا۔
ان کے مطابق پاکستان کی سیاسی اور آئینی تاریخ میں فوجی مداخلتوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے میں عدلیہ کے فیصلوں نے اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے
میں آئین کی بالادستی متاثر ہوئی۔
جسٹس ریٹائرڈ منصور علی شاہ کا بیان ملک میں عدلیہ کے تاریخی کردار اور نظریۂ ضرورت کے استعمال پر ایک سخت تنقیدی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "سب سے بڑا نقصان جرنیلوں یا افسر شاہی نے نہیں بلکہ ججوں نے پہنچایا۔"
جسٹس ریٹائرڈ منصور علی شاہ کے مطابق جب بھی ٹینک سڑکوں پر آئے، عدالتوں نے بار بار "ہاں" کہا۔
انہوں نے کہا کہ عدالتوں نے اقتدار پر قبضے کو قانونی جواز دینے کے لیے "نظریۂ ضرورت" تراشا، غاصبوں سے حلف لیے اور آئین شکنی کو قانون کا روپ
دیا۔
ان کے مطابق پاکستان کی سیاسی اور آئینی تاریخ میں فوجی مداخلتوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے میں عدلیہ کے فیصلوں نے اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے
میں آئین کی بالادستی متاثر ہوئی۔
جسٹس ریٹائرڈ منصور علی شاہ کا بیان ملک میں عدلیہ کے تاریخی کردار اور نظریۂ ضرورت کے استعمال پر ایک سخت تنقیدی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔



