محمود خان اچکزئی نے دہشت گردی اور ملکی سلامتی کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ماضی کی ایک کارروائی کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا پاکستان میں ایک خطرناک دہشت گرد کی موجودگی کی بات کرتی تھی، لیکن اس وقت انکار کیا جاتا رہا، جس کے بعد دو ہیلی کاپٹر آئے اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچا۔
انہوں نے پاک افغان سرحد پر تعمیر کی گئی دیوار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب سرحد پر حفاظتی انتظامات موجود ہیں تو پھر دہشت گرد کہاں سے آتے ہیں؟ ان کے اس سوال میں سرحدی نگرانی اور دہشت گردی کی روک تھام کے اقدامات کی مؤثریت پر توجہ دلائی گئی۔
محمود خان اچکزئی کے بیان میں قومی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف حکمتِ عملی اور سرحدی انتظامات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے جس کارروائی اور دہشت گرد کا حوالہ دیا، ان کی مزید تفصیلات فراہم کردہ بیان میں موجود نہیں ہیں۔



