لاہور کے ایک شہری نے ریڑھی فروشوں پر عائد کیے جانے والے جرمانوں اور حکومتی اخراجات کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایک ریڑھی والے کے پاس صرف 3 ہزار روپے کا سامان موجود ہو تو اسے 2 ہزار روپے جرمانہ کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ شہری نے سوال کیا کہ ایسے جرمانے عائد کرنے والے افسران خود کس طرز کی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں۔
شہری کا کہنا تھا کہ حکام کی جانب سے عوام پر اخراجات اور جرمانوں کا بوجھ ڈالنے کے بجائے سرکاری سطح پر ہونے والے شاہانہ اخراجات میں کمی ہونی چاہیے۔ اس نے کہا کہ اگر سرکاری جہاز استعمال کیے جاتے ہیں تو ان کا ایندھن، پارکنگ اور دیگر اخراجات بھی بالآخر عوام ہی برداشت کرتے ہیں۔
انہوں نے سیاسی اور سرکاری شخصیات کے لیے تختیوں اور تشہیری سرگرمیوں پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر ایسی تختیاں لگانی ہیں تو اس کے اخراجات ذاتی طور پر ادا کیے جائیں۔ شہری کے مطابق عام آدمی پہلے ہی مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان ہے۔
شہری نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پر بھی سوال کرتے ہوئے کہا کہ جو اشیا ایندھن مہنگا ہونے کی وجہ سے مہنگی ہوجاتی ہیں، کیا پیٹرول یا ڈیزل سستا ہونے کے بعد وہی اشیا کبھی واپس سستی بھی ہوتی ہیں؟ شہری کے یہ سوالات مہنگائی، جرمانوں اور سرکاری اخراجات کے حوالے سے عوامی تشویش کی عکاسی کرتے ہیں۔
شہری کا کہنا تھا کہ حکام کی جانب سے عوام پر اخراجات اور جرمانوں کا بوجھ ڈالنے کے بجائے سرکاری سطح پر ہونے والے شاہانہ اخراجات میں کمی ہونی چاہیے۔ اس نے کہا کہ اگر سرکاری جہاز استعمال کیے جاتے ہیں تو ان کا ایندھن، پارکنگ اور دیگر اخراجات بھی بالآخر عوام ہی برداشت کرتے ہیں۔
انہوں نے سیاسی اور سرکاری شخصیات کے لیے تختیوں اور تشہیری سرگرمیوں پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر ایسی تختیاں لگانی ہیں تو اس کے اخراجات ذاتی طور پر ادا کیے جائیں۔ شہری کے مطابق عام آدمی پہلے ہی مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان ہے۔
شہری نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پر بھی سوال کرتے ہوئے کہا کہ جو اشیا ایندھن مہنگا ہونے کی وجہ سے مہنگی ہوجاتی ہیں، کیا پیٹرول یا ڈیزل سستا ہونے کے بعد وہی اشیا کبھی واپس سستی بھی ہوتی ہیں؟ شہری کے یہ سوالات مہنگائی، جرمانوں اور سرکاری اخراجات کے حوالے سے عوامی تشویش کی عکاسی کرتے ہیں۔




vnrutppvlozqzkwtjetkuopmtlqenk