صحافی جاوید چوہدری نے پمز اسپتال میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے حوالے سے حکومت اور متعلقہ اداروں کے طرزِ عمل پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں حکام کے ممکنہ رویے پر طنز کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا اس واقعے کی ذمہ داری بھی کسی سیاسی مخالف پر ڈال کر معاملہ ختم کر دیا جائے گا۔
جاوید چوہدری نے طنزیہ انداز میں کہا کہ پمز اسپتال میں جو ہوا وہ بھی عمران خان کے کھاتے میں ڈال دیں، کہیں کہ یہ سب عمران خان نے کروایا اور فائل بند کر دیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے کی وجہ یہ ہوگی کہ متعلقہ اداروں کے پاس مسئلے کا کوئی حل موجود نہیں اور وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی بڑے سانحے کے بعد اصل وجوہات کا جائزہ لینے اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے بجائے معاملے کو کسی دوسرے رخ پر ڈال دینا مسئلے کا حل نہیں۔
جاوید چوہدری کے بیان میں پمز اسپتال کے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کی ضرورت کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ ان کے مطابق انسانی جانوں سے متعلق کسی بھی واقعے کو سیاسی تنازع میں تبدیل کرنے کے بجائے اس کی اصل وجوہات سامنے لانا ضروری ہے۔
پمز اسپتال کے واقعے نے اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات، انتظامی ذمہ داری اور ممکنہ غفلت کے حوالے سے کئی سوالات پیدا کیے ہیں۔ جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کے بجائے اگر ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی گئی تو اصل مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
جاوید چوہدری نے طنزیہ انداز میں کہا کہ پمز اسپتال میں جو ہوا وہ بھی عمران خان کے کھاتے میں ڈال دیں، کہیں کہ یہ سب عمران خان نے کروایا اور فائل بند کر دیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے کی وجہ یہ ہوگی کہ متعلقہ اداروں کے پاس مسئلے کا کوئی حل موجود نہیں اور وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی بڑے سانحے کے بعد اصل وجوہات کا جائزہ لینے اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے بجائے معاملے کو کسی دوسرے رخ پر ڈال دینا مسئلے کا حل نہیں۔
جاوید چوہدری کے بیان میں پمز اسپتال کے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کی ضرورت کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ ان کے مطابق انسانی جانوں سے متعلق کسی بھی واقعے کو سیاسی تنازع میں تبدیل کرنے کے بجائے اس کی اصل وجوہات سامنے لانا ضروری ہے۔
پمز اسپتال کے واقعے نے اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات، انتظامی ذمہ داری اور ممکنہ غفلت کے حوالے سے کئی سوالات پیدا کیے ہیں۔ جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کے بجائے اگر ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی گئی تو اصل مسئلہ حل نہیں ہوگا۔



