صحافی ثاقب بشیر نے عمران خان اور تین قیدیوں کی درخواستوں کے عدالتی شیڈول سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے دونوں معاملات کے درمیان وقت کے فرق کی نشاندہی کی ہے۔
ثاقب بشیر کے مطابق عمران خان کی درخواست 12 مارچ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں تھی، جس کے بعد سپریم کورٹ میں مقرر ہوتے ہوتے اس کی تاریخ 18 اگست ہو گئی، یعنی معاملے کو تقریباً پانچ ماہ لگ گئے۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے مقابلے میں تین قیدیوں کی درخواستیں 27 اگست کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں تھیں اور بعد ازاں 14 ستمبر کو وفاقی آئینی عدالت میں بھی مقرر ہو گئیں۔ ثاقب بشیر کے مطابق اس معاملے میں تقریباً 18 دن لگے۔
ثاقب بشیر نے دونوں معاملات میں عدالتی کارروائی مقرر ہونے کے وقت کے فرق کو سامنے رکھتے ہوئے سوال کیا کہ کون بااثر ٹھہرا؟ ان کے اس بیان کے بعد عدالتی درخواستوں کی سماعت مقرر کرنے کے طریقہ کار اور مختلف مقدمات میں پیش رفت کی رفتار پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
ثاقب بشیر کے مطابق عمران خان کی درخواست 12 مارچ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں تھی، جس کے بعد سپریم کورٹ میں مقرر ہوتے ہوتے اس کی تاریخ 18 اگست ہو گئی، یعنی معاملے کو تقریباً پانچ ماہ لگ گئے۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے مقابلے میں تین قیدیوں کی درخواستیں 27 اگست کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں تھیں اور بعد ازاں 14 ستمبر کو وفاقی آئینی عدالت میں بھی مقرر ہو گئیں۔ ثاقب بشیر کے مطابق اس معاملے میں تقریباً 18 دن لگے۔
ثاقب بشیر نے دونوں معاملات میں عدالتی کارروائی مقرر ہونے کے وقت کے فرق کو سامنے رکھتے ہوئے سوال کیا کہ کون بااثر ٹھہرا؟ ان کے اس بیان کے بعد عدالتی درخواستوں کی سماعت مقرر کرنے کے طریقہ کار اور مختلف مقدمات میں پیش رفت کی رفتار پر بحث شروع ہو گئی ہے۔



