ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے مطابق فریقین کے لیے مذاکرات کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچنا ناگزیر ہے، جبکہ بات چیت کے ذریعے حل نہ نکلنے اور فوجی تصادم کی صورت میں مکہ الائنس کا اجتماعی ڈیٹرنس حرکت میں آئے گا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے حرمین شریفین کے تحفظ کو پاکستان کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر پاکستان کا مؤقف بالکل واضح اور دوٹوک ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کا پیغام سیاسی قیادت اور فیلڈ مارشل کے ذریعے پہلے ہی سامنے آ چکا ہے۔ ان کے بیان میں تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کو اہم راستہ قرار دینے کے ساتھ حرمین شریفین کے تحفظ اور اجتماعی ڈیٹرنس کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو بھی نمایاں کیا گیا۔



