آج کوٹ لکھپت جیل میں والد مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران والد صاحب نے بتایا کہ جیل کی بیرک کے احاطے میں چہل قدمی کرتے ہوئے اچانک بے ہوش ہو کر گر پڑے تھے۔
جیل میں ان کا بلڈ ٹیسٹ لیا گیا ہے۔ اس کی روشنی میں میری جیل حکام سے درخواست ہے کہ والد صاحب کا فوری طور پر سی ٹی اسکین کروایا جائے تاکہ ان کی طبیعت کی مکمل جانچ ہو سکے، جبکہ کریک ہونے والے دانت کے علاج کے لیے انہیں مستند ڈینٹسٹ کے پاس لے جایا جائے۔
میرے والد نے اپنی زندگی کے ۴۰ سال سے زائد عرصے کو سیاست، قومی خدمت اور عوامی حقوق کے لیے وقف کیا۔ وہ دو مرتبہ پاکستان کے وزیر خارجہ رہے، پارلیمانی لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین کی حیثیت سے اہم ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔ انہوں نے ہمیشہ ملک کے وقار، آئین کی بالادستی اور اپنے سیاسی اصولوں کے لیے آواز بلند کی۔
عمران خان کے ساتھ وفاداری اور اپنے اصولی مؤقف پر ثابت قدم رہنے کی قیمت میرے والد آج بھی ادا کر رہے ہیں، لیکن سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ہر قیدی کو بنیادی انسانی حقوق اور مناسب طبی سہولیات ملنا اس کا حق ہے۔
فوری سی ٹی اسکین اور مناسب طبی معائنے و علاج کے لیے آج عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔ میرے والد کی صحت کو سنجیدگی سے لیا جائے، انہیں فوری طبی معائنہ، سی ٹی اسکین اور ڈینٹسٹ سمیت تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
اللہ تعالیٰ میرے والد کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے اور جلد باعزت رہائی نصیب فرمائے۔
از، مخدوم زین حسین قریشی



