اسلام وعلیکم
میں آج اس موضوع پر باضابطہ ایک وضاحت عام عوام کے سامنے رکھنے جا رہا ہے ہوں جسکی وجہ سابق ایس ایس پی عرفان سلیم کے یہ الفاظ ہیں
“سال ۲۰۲۲ میں جب میں برطانیہ تھا تو انہی اسمگلرز نے ان پولیس آفیسران اور ابرار قریشی (YouTuber)کے ذریعے سازش کر کے ایک روز جب میں روزہ کی حالت میں تھا انٹرویو کے بہانے گھٹیااور جھوٹ پر مبنی سوالات پوچھے اور میرے جوابات کٹ کر کے پیش کیے جنکی بعد میں ابرار قریشی کو خود ہی تردید کرنا پڑی”
عرفان سلیم نے صحافی شہزاد راٹھور کی جانب سے یہ خبر کہ عرفان کیانی جو ۵ کلو ہیروئن پکڑے جانے کی پاداش جیل گیا وہ عرفان سلیم کا دوست ہے۔ اس کی وضاحت میں جو کچھ عرفان سلیم نے اپنی ایک پریس ریلیز میں میرے بارے میں بیان کیا اس کی وضاحت دینا لازم ہے کیونکہ عرفان سلیم نے حقائق کہ منافی میرے اور اس انٹرویو کے بارے میں بات کی ہے۔
۱- پہلی بات میں یوٹیوبر نہیں بلکہ ایک صحافی ہوں اور صحافت کی رموز اوقاف سے بخوبی واقف ہوں اگر میں صحافی نہ ہوتا تو عرفان سلیم کئی ماہ مسلسل مجھ سے رابطہ کر کے سرزمین آزاد کشمیر سےکئی گھنٹوں کا سفر طے کر کے برطانیہ آ کر مجھے انٹرویو نہ دیتے۔
۲- عرفان کے بعقول میں نے منشیات فروشوں کی ایما پر انکا انٹرویو کیا۔ یہ فیصلہ لوگ کریں گے منشیات فروشوں کا دوست اہلکار کون ہے جبکہ مجھے منشیات فروشوں اور انکی سرپرستی کرنے والوں سے سخت نفرت ہے۔
۳- عرفان سلیم کے بقول میں نے ایک سازش کر کے روزے کی حالت میں انکا انٹرویو کیا۔ کیا کوئی زی شعور انسان یہ بات تسلیم کر سکتا ہے کہ اسوقت کے حاضر سروس ایس ایس پی عرفان سلیم کا ایک یوٹیوبر زبردستی اور وہ بھی برطانیہ میں انٹرویو کرے؟
اسکی مزید تفصیلات یہ ہیں کہ موصوف انٹرویو دینے کے لیے کئی ماہ سے بے تاب تھے غلط یہ ہوا کہ میں نے ہمیشہ انکا یا کسی کا بھی ٹاوٹ بن کر انٹرویو نہیں کیا جس کے بعد انکو لینے کے دینے پڑ گئے کیوں کہ یاد رہے کہ انٹرویو سے پہلے عرفان نے مجھے اپنی حسن کارکردگی میڈل، ایوارڈ کی تفصیلات جو کہ PDF کے ۷ صفات پر مشتمل تھیں وہ ارسال کی۔ مگر میں نے اپنی صحافتی ذمہ دارای کو نبھاتے ہوئے وہ تمام سوالات پوچھے جو انکے متعلقہ تھے۔ انٹرویو کے فوری بعد عرفان سلیم مجھے ایک گھنٹہ تک اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ اسکو نشر نہ کیا جائے اس سلسلے میں وہ میرے پاس آنے کو تیار تھے۔ وہ مجھے نیا انٹرویو کرنے کا بھی کہہ رہے تھے انھوں نے مجھے پاکستان کا ٹکٹ بھی آفر کیا۔ انھوں نے مجھے سابق اپنے سے سنیئر پولیس آفیسران سے سفارشی فون بھی کروائے۔ جنکا ریکارڈ میرے پاس موجود ہے۔
آج پہلی بار اس بات کا انکشاف کرنے لگا ہوں کہ عرفان سلیم نے میرا نمبر مافیا کو دیا۔ جنہوں نے مجھے ماں بہن کی ننگی گالیاں دی۔ مجھے گن کے فوٹو بھجیے مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی۔ راجپوت قبیلے سے ہونے کا کارڈ کھیلا۔ میں یہ سب کچھ برداشت کر گیا کیوں کہ میری تربیت ایسی تھی۔
عرفان سلیم نے چند آفیسران کے ذریعے میرا تمام ڈیٹا جمع کیا کیس بنانے کی کوششیں کی مگر ناکام رہا۔
آج آپ کے سامنے یہ انکشاف بھی کرنے لگا ہوں کہ عرفان سلیم نے مجھے بلیک میل کرنے کے لیے اپنے نام سے ہتک عزت کا کیس کرنے کے لیے نوٹس بھجیے جس پر میں نے جواب میں کہ مجھے بار بار ٹوٹس مت بھجو عدالت میں کیس کرو یا گھر بیٹھ جاو۔ میرے اس جواب کے بعد وہ گھر بیٹھ گیا۔
۴- عرفان سلیم کے مطابق میں نے انکے انٹرویو کے جوابات کاٹ کاٹ کر پیش کیے؟
جواب۔۔ اتنے بڑے عہدے پر بیٹھے جس شخص کو مکمل انٹرویو اور جھلکیوں میں فرق معلوم نہ ہو اس پر نہ صرف افسوس کیا جا سکتا ہے بلکہ وہ پھر ایک صحافی کو یوٹیوبر ہی کہے گا۔
۵- عرفان سلیم کے مطابق ابرار قریشی نے تردید کی۔
جواب: میں نے آج تک اپنے کسی انٹرویو کی تردید نہیں کی جبکہ وضاحت اور تردید میں فرق ہوتا ہے
وضاحت اس بات کی بیان کی تھی کہ عرفان سلیم منشیات فروش نہیں ہے بلکہ منشیات فروشوں کیساتھ انکے بھائی کے مراسم اور تجارت ہے۔
صاحبو۔۔۔آج اس وضاحت کے پیچھے بھی وجہ عرفان سلیم خود ہیں میرے پاس آج بھی ایسے شواہد موجود ہیں جو میں اسوقت چاہتا تو منظر عام پر لا سکتا تھا مجھے آج اس بات کا سختی سے احساس ہوا ہے کہ ایک بڑے قبیلے کا یہ چھوٹا اور جھوٹا شخص ہے اور اتنے بڑے عہدے پر ایک کمتر انسان ۳۰ برس گزار گیا۔ میں ایک بات مانتا ہوں عرفان سلیم ایک ذہین ترین انسان ہے مگر منفی سمت میں ۔
میں اور میرا پلیٹ فارم آج بھی حاضر ہے عرفان سلیم چاہیے تو اپنا موقف اور انٹرویو دے سکتے ہیں۔
اپنا خیال رکھیے



