پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر نے گیارہ اکتوبر کو تاریخ میں سیاہ ترین الفاظ میں یاد رکھے جانے کا دن قرار دیتے ہوئے گورنر راج کے نفاذ پر تنقید کی ہے۔ اپنے بیان میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ دوتہائی اکثریت سے قائم حکومت کو ختم کرکے ناحق گورنر راج نافذ کیا گیا۔ انہوں نے اس اقدام کو سیاسی اور جمہوری عمل کے حوالے سے قابلِ اعتراض قرار دیا۔ بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ گورنر راج کے باوجود ان کی جماعت کا لانگ مارچ اور احتجاج جاری رہے گا۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے…
-
-
یبر پختونخوا میں ایڈووکیٹ جنرل آفس کے پورے عملے کو فارغ کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔ محکمہ قانون کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل آفس میں تعینات عملے کو عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ چھبیس ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز اور اکتیس اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں صوبے کے قانونی امور سے متعلق حکومتی ٹیم میں بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے۔
-
مولانا فضل الرحمان نے گورنر راج کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف سیاسی اور قانونی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ عوام کے درمیان جائیں گے اور پارلیمان میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان میں عدالت سے رجوع کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور کسی دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے بیان میں گورنر راج کے فیصلے کے خلاف عوامی رابطے، پارلیمانی سرگرمیوں اور قانونی…
-
پاکستان پیپلز پارٹی کے جمہوری دعووں اور اس کے مختلف ادوار میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق تاریخی مثالوں پر سیاسی بحث سامنے آئی ہے۔ ایک بیان میں ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے ادوار کا حوالہ دیتے ہوئے جماعت کے جمہوری مؤقف پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ بیان کے مطابق، ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انیس سو تہتر میں بلوچستان اور انیس سو پچھتر میں صوبہ سرحد، بینظیر بھٹو کے دور میں انیس سو چورانوے میں صوبہ سرحد، جبکہ آصف علی زرداری کے دورِ صدارت میں دو ہزار نو میں پنجاب اور دو…
-
محمد مشتاق نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے ممکنہ نفاذ کے حوالے سے وزیرِ اعلیٰ کے منصب کی آئینی حیثیت پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق، ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے باوجود وزیرِ اعلیٰ اپنے عہدے پر برقرار رہتا ہے۔ محمد مشتاق کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے عدم اعتماد کی تحریک یا اسمبلی تحلیل کرنے جیسے اقدامات درکار ہوں گے۔ انہوں نے قومی جامعۂ دفاع سے وابستگی رکھنے والے افراد، سند یافتہ تجزیہ نگاروں اور سینئر صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے اس نکتے پر توجہ دینے کا کہا۔…
-
ابرار قریشی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے ممکنہ نفاذ سے متعلق ایک بیان میں اس اقدام کے اثرات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا اس فیصلے کے بعد ملک میں استحکام آ جائے گا اور کیا دہشت گردی پر قابو پانا ممکن ہو سکے گا؟ ابرار قریشی نے غربت کے خاتمے اور تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے حوالے سے بھی سوالات کیے۔ ان کے بیان میں یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ آیا گورنر راج جیسے اقدام سے عوام کو درپیش معاشی و امن و امان کے مسائل حل ہو جائیں گے یا سیاسی…
-
-
-
-