وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس ہوا، جس میں صوبے کی موجودہ صورتحال اور پولیس سے متعلق امور پر گفتگو کی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ گزشتہ چار پانچ دنوں سے جو کچھ ہو رہا ہے وہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز کابینہ نے پولیس ایکٹ کی منظوری دی ہے، جبکہ اسمبلی میں اس قانون میں مزید ترامیم بھی کی جا سکتی ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر کوئی وفاقی ادارہ پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرے گا تو صوبائی حکومت اس معاملے پر اقدامات کرے گی۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پولیس کی توجہ ہٹا کر اسے کسی سیاسی جماعت کی طرف موڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
وزیراعلیٰ نے امن و امان کی صورتحال اور پولیس کے کردار کے حوالے سے صوبائی حکومت کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو اپنے بنیادی فرائض اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ گزشتہ چار پانچ دنوں سے جو کچھ ہو رہا ہے وہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز کابینہ نے پولیس ایکٹ کی منظوری دی ہے، جبکہ اسمبلی میں اس قانون میں مزید ترامیم بھی کی جا سکتی ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر کوئی وفاقی ادارہ پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرے گا تو صوبائی حکومت اس معاملے پر اقدامات کرے گی۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پولیس کی توجہ ہٹا کر اسے کسی سیاسی جماعت کی طرف موڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
وزیراعلیٰ نے امن و امان کی صورتحال اور پولیس کے کردار کے حوالے سے صوبائی حکومت کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو اپنے بنیادی فرائض اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔



