خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے موجودہ سیاسی نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس نظام کے کولیپس ہونے کی بات کی جا رہی ہے، اسے سسٹم بھی نہیں کہنا چاہیے بلکہ ’’جنرل‘‘ کہنا چاہیے۔
سہیل آفریدی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ کنسٹیٹیوشن آف جنرلز، سپریم کورٹ آف جنرلز اور الیکشن کمیشن آف جنرلز ہے، جبکہ الیکشن تو ویسے بھی جنرل الیکشن ہوتا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں موجودہ نظام میں مبینہ طور پر اسٹیبلشمنٹ کے اثر و رسوخ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس نظام کو ’’جنرل سسٹم‘‘ قرار دینا زیادہ مناسب ہو گا۔
سہیل آفریدی کے اس بیان نے ملکی آئینی، سیاسی اور انتخابی نظام کے حوالے سے جاری بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ ان کے تبصرے کو موجودہ حکومتی و ریاستی ڈھانچے پر سیاسی طنز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ کنسٹیٹیوشن آف جنرلز، سپریم کورٹ آف جنرلز اور الیکشن کمیشن آف جنرلز ہے، جبکہ الیکشن تو ویسے بھی جنرل الیکشن ہوتا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں موجودہ نظام میں مبینہ طور پر اسٹیبلشمنٹ کے اثر و رسوخ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس نظام کو ’’جنرل سسٹم‘‘ قرار دینا زیادہ مناسب ہو گا۔
سہیل آفریدی کے اس بیان نے ملکی آئینی، سیاسی اور انتخابی نظام کے حوالے سے جاری بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ ان کے تبصرے کو موجودہ حکومتی و ریاستی ڈھانچے پر سیاسی طنز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔



