سردار عتیق احمد خان کی آزاد کشمیر کی آئینی حیثیت اور مسئلہ کشمیر پر گفتگو
تازہ خبریں - سیاست

آزاد کشمیر کی آئینی حیثیت، ایکشن کمیٹی اور مسئلہ کشمیر پر نیا موڑ؟ سردار عتیق احمد خان کی اہم گفتگو

کیا فیلڈ مارشل کی کشمیر پالیسی نیچے تک نہیں پہنچی؟ آزاد کشمیر کی آئینی حیثیت، ایکشن کمیٹی اور مسئلہ کشمیر پر پھر کوئی نیا موڑ؟
سردار عتیق احمد خان کی ان موضوعات پر اہم گفتگو

رپورٹ، خواجہ کاشف میر

نو ستمبر 2026ء

اسلام آباد میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور صدر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے آزاد کشمیر کی آئینی حیثیت، مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی پالیسی، 5 اگست 2019 کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، ’’باجوہ ڈاکٹرائن‘‘، آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے تشخص، مہاجرین کی نمائندگی، حالیہ عوامی تحریک اور سیاسی جماعتوں کے کردار سمیت مختلف امور پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔

سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ آزاد کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے یا اسے کسی نئے انتظامی و آئینی بندوبست میں لانے کی تجاویز کوئی نئی بات نہیں۔ ان کے مطابق 1950 کی دہائی سے اس نوعیت کی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں اور مختلف ادوار میں انتظامی سطح پر بھی تبدیلیاں کی جاتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کیے جانے کے بعد یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر زیادہ نمایاں ہوا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک مرحلے پر یہ تصور موجود تھا کہ بھارت اپنے زیر قبضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرے گا جبکہ پاکستان کے زیرانتظام حصے میں بھی کسی نہ کسی نوعیت کی تبدیلی لائی جائے گی۔ ان کے بقول اسی تناظر میں ’’باجوہ ڈاکٹرائن‘‘ کی بات سامنے آئی تھی، جس کے تحت آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے، وفاقی علاقہ قرار دینے یا اسے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی دینے سمیت مختلف تجاویز زیرغور رہیں۔

سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ انہیں اس بات پر بھی تشویش رہی کہ آزاد کشمیر میں ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس سے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی بڑھے اور کشمیریوں کو ’’باغی‘‘ یا ’’قابو سے باہر‘‘ قرار دے کر ہنگامی نوعیت کے اقدامات یا آزاد کشمیر کی موجودہ خصوصی حیثیت کے خاتمے کا جواز پیدا کیا جا سکے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ موجودہ عسکری قیادت کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں، کشمیریوں کے حق خودارادیت اور کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کی حمایت میں دیے گئے بیانات اس حوالے سے ایک مختلف سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ان کے مطابق موجودہ آرمی چیف کے ابتدائی دنوں میں آزاد کشمیر کے دورے، 5 فروری کے بیانات اور بعد ازاں اس واضح مؤقف کہ ’’کشمیر کا ایک انچ بھی کمپرومائز نہیں ہو سکتا‘‘ سے یہ پیغام ملتا ہے کہ پاکستان دوبارہ اپنے بنیادی کشمیر مؤقف کی طرف واپس آ رہا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پالیسی کا اصل امتحان اس وقت ہوگا جب یہ مؤقف نچلی سطح تک بھی اسی وضاحت کے ساتھ پہنچے گا۔

چین کے حوالے سے سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر چین کا اپنا ایک واضح اور منفرد مؤقف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چین میں انجینئرنگ اور میڈیکل کی تعلیم کے لیے جانے والے کشمیری طلبہ کے معاملے میں بھی بعض اوقات ویزا دستاویزات کے حوالے سے ایسا طریقہ اختیار کیا گیا جس سے کشمیر کو محض بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں سمجھا گیا بلکہ متنازعہ حیثیت میں رکھا گیا۔ ان کے بقول یہ پاکستان کی وزارت خارجہ کا مؤقف نہیں بلکہ چین کی اپنی پوزیشن ہے۔

سردار عتیق احمد خان نے آزاد کشمیر کے نام اور تشخص پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اسے محض ’’حکومت آزاد کشمیر‘‘ کہنا درست نہیں بلکہ اس کا مکمل نام ’’آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر‘‘ ہے۔ انکے مطابق یہ نام اس تاریخی حقیقت کی نمائندگی کرتا ہے کہ یہ حکومت ریاست جموں و کشمیر کے آزاد حصے کی نمائندہ حکومت کے طور پر وجود میں آئی تھی، اگرچہ موجودہ آئینی بندوبست میں اس کے اختیارات کا دائرہ محدود ہے۔

انہوں نے یورپی پارلیمنٹ میں کشمیر کے حوالے سے ہونے والی ایک سماعت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں وہاں ’’آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر‘‘ کے نمائندے کی حیثیت سے مدعو کیا گیا، جہاں انہوں نے کشمیریوں کا مؤقف پیش کیا، جبکہ بھارتی اور پاکستانی نمائندوں نے اپنے اپنے ممالک کا مؤقف پیش کیا۔ ان کے بقول اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر بھی آزاد کشمیر حکومت کو جموں کشمیر کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔

آزاد کشمیر کے آئینی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض معاملات عام قانون سازی کے نہیں بلکہ آئین سازی اور ریاست کے بنیادی سیاسی بندوبست سے متعلق ہیں۔ ان کے بقول دنیا کے کسی بھی جمہوری ملک میں محض سیاسی جماعتوں کے باہمی اتفاق سے ریاست کے بنیادی آئینی فیصلے تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے امریکہ میں ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز، بھارت میں بی جے پی اور کانگریس جبکہ پاکستان میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی آئینی ڈھانچے کے معاملات سیاسی مفادات کے تابع نہیں ہو سکتے اور یہ سب جماعتیں اپنے ممالک میں بنیادی آئینی ڈھانچے کو تبدیل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے آزاد کشمیر کے تاریخی سیاسی بندوبست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کی موجودہ آئینی اور سیاسی ساخت کسی ایک دن یا ایک حکومت کی پیداوار نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک طویل تاریخی عمل موجود ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی دور کی حکومت میں کابینہ کی تشکیل، مہاجرین کی نمائندگی اور مسلم کانفرنس کا کردار اسی تاریخی بندوبست کا حصہ تھا۔ انہوں نے کراچی معاہدے اور بعد کے آئینی انتظامات کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلے سیاسی قیادت اور اسمبلی کے ذریعے آگے بڑھے تھے، اس لیے انہیں محض موجودہ سیاسی ضرورت کے تحت ختم یا نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ 1970 کا ایکٹ آزاد کشمیر کی جمہوری تاریخ میں ایک بہترین قدم تھا، تاہم بعد کے ادوار میں سیاسی مقاصد کے تحت اس میں تبدیلیاں کی گئیں۔ ان کے مطابق 70 کے ایکٹ میں بعض ترامیم کا مقصد مسلم کانفرنس کی سیاسی حیثیت اور کردار کو کمزور کرنا بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بنیادی آئینی معاملات کا تعلق مسئلہ کشمیر کے حتمی تصفیے سے ہے اور انہیں اس تناظر سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔

آزادکشمیر میں جاری حالیہ عوامی تحریک اور ایکشن کمیٹی کے بارے میں سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ اسے کسی ایک جماعت یا تنظیم کی تحریک قرار دینا درست نہیں۔ ان کے مطابق اس میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ، نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن، دیگر سیاسی و قوم پرست تنظیموں کے کارکن، تاجر، ڈاکٹر، طلبہ، وکلا، سول سوسائٹی، پنشنرز، بیوائیں اور مختلف طبقات شامل ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ مسلم کانفرنس اس تحریک کا حصہ نہیں، اس لیے وہ پوری ایکشن کمیٹی کو یکسر مسترد یا اس کی مذمت نہیں کر سکتے۔ ان کے بقول اس میں شامل 99 فیصد لوگ اچھے پاکستانی اور اچھے شہری ہیں، البتہ بعض افراد کی جانب سے سخت یا قابل اعتراض ریاست مخالف گفتگو بھی سامنے آتی ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا اور میڈیا پر چند آوازیں پوری تحریک کی نمائندہ بنا کر پیش کر دی جاتی ہیں۔

سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یا دیگر تنظیموں سے وابستہ افراد کی موجودگی کو بنیاد بنا کر پوری تحریک اور عوام کو پاکستان مخالف قرار دینا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی ایک بڑی تاریخی سیاسی سمت پاکستان کے ساتھ رہی ہے اور ان کے الفاظ میں ’’کشمیر کے لوگ پاکستان بننے سے پہلے کے پاکستانی ہیں‘‘۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیرون ملک موجود بعض عناصر یا پاکستان مخالف قوتیں عوامی جذبات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں، اس لیے ان عناصر اور عام کشمیری عوام کے مطالبات میں فرق کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے ابتدائی مطالبات صرف چند تھے، بعد میں مختلف مراحل میں مطالبات میں اضافہ ہوتا گیا۔ ان کے بقول ابتدا میں تین چار مطالبات تھے، پھر مزید نکات شامل ہوئے، مہاجرین کی نشستوں، کراچی معاہدے اور بعد ازاں انتخابات نہ کرانے جیسے معاملات بھی بحث کا حصہ بن گئے۔
سردار عتیق احمد خان نے انتخابات کے حوالے سے کہا کہ وہ ہر صورت انتخابات کے انعقاد کے حامی تھے۔ ان کے مطابق اگر انتخابات بروقت نہ ہوتے تو خدشہ تھا کہ آزاد کشمیر کئی سال تک انتخابی عمل سے محروم ہو سکتا ہے اور اس کی جمہوری حیثیت مزید کمزور ہو جاتی۔ انہوں نے مہاجرین کی نشستوں اور حقِ رائے دہی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج مہاجرین کی نمائندگی ختم کی جاتی ہے تو کل کسی دوسرے خطے یا طبقے کی نمائندگی پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے اور یوں یہ عمل بتدریج پوری ریاست کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کر سکتا ہے۔

انہوں نے بجلی کے نرخوں کے معاملے پر بھی کہا کہ مسلم کانفرنس نے عوامی مطالبے کی حمایت کی تھی اور نرخوں میں کمی یا سابقہ نرخ بحال کرنے کے مطالبے کو درست سمجھا، تاہم ان کے بقول وعدے کے مطابق معاملات حل نہیں ہوئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مذاکرات اور سیاسی حل میں غیرضروری تاخیر عوامی بے چینی میں اضافہ کرتی ہے، خصوصاً راولپنڈی اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں موجود کشمیری برادری میں بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
سردار عتیق احمد خان نے سیاسی قیادت اور حکومت پر زور دیا کہ طاقت کے بجائے سیاسی بصیرت، مذاکرات اور مکالمے کا راستہ اختیار کیا جائے۔ ان کے مطابق عوامی تحریکوں کو محض انتظامی یا سکیورٹی مسئلہ سمجھ کر حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان کے سیاسی اسباب اور عوامی شکایات کو سمجھنا ضروری ہے۔

مسلم کانفرنس کے تاریخی کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کے لیے مسلم لیگ کے بجائے مسلم کانفرنس کو سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر آگے بڑھانے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ ان کے مطابق کشمیر کی اپنی سیاسی شناخت اور تاریخی حالات کے باعث مسلم کانفرنس کو وہاں بنیادی سیاسی فورم بنایا گیا۔

انہوں نے علامہ اقبال کے شعر ’’توڑو اس دستِ جفا کش کو یارب، جس نے روحِ آزادیِ کشمیر کو پامال کیا‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی ’’روحِ آزادی‘‘ کے تاریخی سیاسی پس منظر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول اگر کسی معاشرے کی بنیادی سیاسی قوتوں اور تاریخی فورمز کو نظام سے نکال دیا جائے تو پیدا ہونے والا سیاسی خلا کسی نہ کسی دوسری قوت یا بیانیے سے پُر ہو جاتا ہے۔

سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر صرف ایک انتظامی یا علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ تاریخی، آئینی، سیاسی اور بین الاقوامی نوعیت کا معاملہ ہے۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر کے آئینی بندوبست، مہاجرین کی نمائندگی، عوامی حقوق، انتخابات اور پاکستان کی کشمیر پالیسی کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھنے کے بجائے مجموعی تاریخی تناظر میں سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کے حتمی تصفیے تک ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو ریاست کی متنازع حیثیت، کشمیریوں کی سیاسی نمائندگی یاحق خودارادیت کے بنیادی تصور کو کمزور کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *