غریب پاپڑ فروش بجلی کے بھاری بل اور گھریلو اخراجات سے پریشان۔
تازہ خبریں

ایک سو بائیس یونٹس کا 6500 روپے بل، غریب پاپڑ فروش کی فریاد: سائیکل بیچ کر بل دیا، اگلا کیسے دوں گا؟

مہنگائی اور بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ ایک غریب پاپڑ فروش نے بجلی کے بل اور اپنے گھریلو حالات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ محدود آمدنی میں گھر کا نظام چلانا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔

پاپڑ فروش کے مطابق ایک سو بائیس یونٹس کا بجلی کا بل 6500 روپے آیا ہے، جبکہ اس سے پہلے اس کا بل کبھی 1500 روپے سے زیادہ نہیں آیا تھا۔ اس نے بتایا کہ بجلی کا بل ادا کرنے کے لیے اسے اپنی سائیکل تک فروخت کرنا پڑی۔

غریب پاپڑ فروش کا کہنا ہے کہ اب اس کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگلا بجلی کا بل کیسے ادا کرے گا۔ وہ کرائے کے مکان میں رہتا ہے اور اسے مکان کا کرایہ بھی دینا ہوتا ہے، جبکہ آٹا، سبزیاں، چینی، گھی اور دیگر ضروری اشیاء بھی اسی آمدنی سے خریدنی پڑتی ہیں۔

اس شخص کے مطابق اس کے بوڑھے والدین بھی اس کے ساتھ رہتے ہیں اور گھر کے اخراجات کی ذمہ داری بھی اسی پر ہے۔ پاپڑ فروخت کرکے حاصل ہونے والی آمدنی سے بجلی کے بل، کرایے اور روزمرہ ضروریات پوری کرنا اس کے لیے دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

کم آمدنی والے افراد کے لیے بجلی کے بل میں اضافہ براہ راست گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ پاپڑ فروش کی فریاد بھی اسی مشکل صورتحال کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ایک طرف بنیادی ضروریات پوری کرنا ضروری ہیں اور دوسری طرف بڑھتے ہوئے بجلی کے اخراجات نے مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *