پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی قیادت کے لندن میں جمع ہونے سے متعلق سیاسی بحث ایک بار پھر تیز ہوگئی ہے۔ ابرار قریشی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی قیادت لندن میں جمع ہونا شروع ہوگئی ہے، جبکہ طاقتوروں کا ایک خاص نمائندہ بھی وہیں موجود ہے۔
ابرار قریشی کے مطابق اب سوال یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی اسی تنخواہ پر کام کرنے کے لیے راضی ہوں گی یا پھر دونوں جماعتوں کے درمیان بڑے پیمانے پر رسہ کشی شروع ہونے والی ہے۔ ان کے بیان میں لندن میں ہونے والی سیاسی سرگرمیوں کو اہم فیصلوں اور ممکنہ سیاسی تبدیلیوں سے جوڑا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کا فیصلہ جلد متوقع ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ لندن میں ہونے والی ملاقاتیں محض سیاسی مشاورت تک محدود رہیں گی یا ان کے نتیجے میں ملکی سیاست میں کوئی بڑا فیصلہ سامنے آئے گا۔
ابرار قریشی کا بیان سیاسی تجزیے اور قیاس آرائی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی یا متعلقہ حلقوں کی جانب سے اس حوالے سے کوئی حتمی مؤقف سامنے آنے تک لندن میں ہونے والی سرگرمیوں کے اصل مقاصد واضح نہیں ہو سکے۔
ابرار قریشی کے مطابق اب سوال یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی اسی تنخواہ پر کام کرنے کے لیے راضی ہوں گی یا پھر دونوں جماعتوں کے درمیان بڑے پیمانے پر رسہ کشی شروع ہونے والی ہے۔ ان کے بیان میں لندن میں ہونے والی سیاسی سرگرمیوں کو اہم فیصلوں اور ممکنہ سیاسی تبدیلیوں سے جوڑا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کا فیصلہ جلد متوقع ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ لندن میں ہونے والی ملاقاتیں محض سیاسی مشاورت تک محدود رہیں گی یا ان کے نتیجے میں ملکی سیاست میں کوئی بڑا فیصلہ سامنے آئے گا۔
ابرار قریشی کا بیان سیاسی تجزیے اور قیاس آرائی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی یا متعلقہ حلقوں کی جانب سے اس حوالے سے کوئی حتمی مؤقف سامنے آنے تک لندن میں ہونے والی سرگرمیوں کے اصل مقاصد واضح نہیں ہو سکے۔



