آزاد کشمیر کے وزیر صحت ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی کے مبینہ 18 رکنی ذاتی اسٹاف کی فہرست پر خواجہ کاشف میر نے سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔ گیارہ ستمبر دو ہزار چھبیس کو جاری اپنے بیان میں خواجہ کاشف میر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ فہرست دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وزارت صحت نہیں بلکہ کوئی چھوٹی موٹی سلطنت چلائی جا رہی ہو۔
خواجہ کاشف میر کے مطابق وزیر صحت کے ذاتی اسٹاف میں تین ڈرائیور، چار نائب قاصد، ایک میڈیا ایڈوائزر، چار فوکل پرسن، دو پی آر او، ایک پرائیویٹ سیکرٹری، ایک پرسنل اسسٹنٹ، ایک سٹینوگرافر اور ایک گن مین شامل ہیں، یعنی مجموعی طور پر اٹھارہ افراد۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد سرکاری اخراجات پر تنخواہوں اور مراعات کے ساتھ وزیر اور ان کے گھرانے کی خدمت پر مامور ہیں۔ خواجہ کاشف میر نے مزید دعویٰ کیا کہ سرکاری گاڑیوں، ہسپتالوں، ادویات کی خریداری، تبادلوں اور دیگر محکموں میں مبینہ اثر و رسوخ کی سہولت بھی اس کے علاوہ ہے۔
خواجہ کاشف میر نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک وزیر کے ساتھ اتنا بڑا ذاتی اسٹاف موجود ہے تو باقی وزراء کے معاملات کیا ہوں گے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے عوام کی جانب سے حکمرانوں سے ناراضی، روزگار کی کمی اور خطے کی ترقی کے مسائل کو بھی حکومتی اخراجات اور ترجیحات سے جوڑا۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر ریاست کا بجٹ عوام کے بجائے حکمرانوں کے پروٹوکول اور ذاتی اسٹاف پر زیادہ خرچ ہوگا تو ترقی شاید فائلوں میں ہی رہ جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ہسپتالوں میں دوا ملے یا نہ ملے، وزیر صاحب کے پاس دوا سے پہلے اٹھارہ آدمی ضرور موجود ہیں۔
خواجہ کاشف میر نے کہا کہ انہوں نے وزیر صحت کے مبینہ خدمت گاروں سے متعلق تفصیلات عوام کے سامنے رکھنا مناسب سمجھا ہے۔ انہوں نے گزشتہ پانچ سال کے دوران وزارت صحت اور سابق وزرائے صحت انصر ابدالی اور بازل نقوی کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے بنیادی مراکز صحت، تحصیل اور ضلعی ہسپتالوں کا رخ کرنے کا بھی حوالہ دیا۔
واضح رہے کہ ذاتی اسٹاف کی تعداد، سرکاری اخراجات اور دیگر مراعات سے متعلق بیان کردہ تفصیلات خواجہ کاشف میر کی جانب سے پیش کی گئی ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔
خواجہ کاشف میر کے مطابق وزیر صحت کے ذاتی اسٹاف میں تین ڈرائیور، چار نائب قاصد، ایک میڈیا ایڈوائزر، چار فوکل پرسن، دو پی آر او، ایک پرائیویٹ سیکرٹری، ایک پرسنل اسسٹنٹ، ایک سٹینوگرافر اور ایک گن مین شامل ہیں، یعنی مجموعی طور پر اٹھارہ افراد۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد سرکاری اخراجات پر تنخواہوں اور مراعات کے ساتھ وزیر اور ان کے گھرانے کی خدمت پر مامور ہیں۔ خواجہ کاشف میر نے مزید دعویٰ کیا کہ سرکاری گاڑیوں، ہسپتالوں، ادویات کی خریداری، تبادلوں اور دیگر محکموں میں مبینہ اثر و رسوخ کی سہولت بھی اس کے علاوہ ہے۔
خواجہ کاشف میر نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک وزیر کے ساتھ اتنا بڑا ذاتی اسٹاف موجود ہے تو باقی وزراء کے معاملات کیا ہوں گے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے عوام کی جانب سے حکمرانوں سے ناراضی، روزگار کی کمی اور خطے کی ترقی کے مسائل کو بھی حکومتی اخراجات اور ترجیحات سے جوڑا۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر ریاست کا بجٹ عوام کے بجائے حکمرانوں کے پروٹوکول اور ذاتی اسٹاف پر زیادہ خرچ ہوگا تو ترقی شاید فائلوں میں ہی رہ جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ہسپتالوں میں دوا ملے یا نہ ملے، وزیر صاحب کے پاس دوا سے پہلے اٹھارہ آدمی ضرور موجود ہیں۔
خواجہ کاشف میر نے کہا کہ انہوں نے وزیر صحت کے مبینہ خدمت گاروں سے متعلق تفصیلات عوام کے سامنے رکھنا مناسب سمجھا ہے۔ انہوں نے گزشتہ پانچ سال کے دوران وزارت صحت اور سابق وزرائے صحت انصر ابدالی اور بازل نقوی کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے بنیادی مراکز صحت، تحصیل اور ضلعی ہسپتالوں کا رخ کرنے کا بھی حوالہ دیا۔
واضح رہے کہ ذاتی اسٹاف کی تعداد، سرکاری اخراجات اور دیگر مراعات سے متعلق بیان کردہ تفصیلات خواجہ کاشف میر کی جانب سے پیش کی گئی ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔



