مشاہد حسین سید کا غربت پر بیان، کہا مسئلہ نئے صوبے نہیں بلکہ پالیسی کی ترجیحات ہیں
مشاہد حسین سید نے پاکستان میں غربت کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ سے منسوب اعداد و شمار کا حوالہ دیا ہے۔ ان کے بیان کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے کے غریب افراد میں سے اڑتالیس فیصد پاکستان میں رہتے ہیں، جبکہ باقی غریب افغانستان، یمن اور شام میں ہیں۔
مشاہد حسین سید نے ان اعداد و شمار کو ریاستی وسائل کی تقسیم اور حکومتی ترجیحات سے جوڑتے ہوئے موجودہ نظام پر تنقید کی۔ ان کا مؤقف ہے کہ اشرافیہ کے مفادات کو ترجیح دینے کے باعث عوامی مسائل حل کرنے کے لیے وسائل کا مؤثر استعمال نہیں ہو رہا۔
انہوں نے نئے صوبوں کے قیام کی بحث پر بھی اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی مسئلہ نئے صوبے بنانا نہیں بلکہ پالیسی کی ترجیحات درست کرنا ہے۔
ان کے مطابق غربت جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ریاستی وسائل کی تقسیم اور حکومتی فیصلوں میں عوامی ضروریات کو اہمیت دینا ضروری ہے۔



