جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ دونوں طرف سے جواب کے انتظار میں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت یہ نہیں کہہ سکتی کہ اس نے سارے مطالبات مان لیے کیونکہ حکومت نے ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ وقت جذبات کا نہیں بلکہ عقلمندی اور سمجھداری سے کام لینے کا ہے۔ انہوں نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ صورتحال کو سنجیدگی سے لیا جائے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جائے۔ ان کا یہ بیان آزاد کشمیر کی موجودہ پیچیدہ سیاسی صورتحال میں ایک اہم موقف کی حیثیت رکھتا ہے۔



