ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران امریکا تنازع کے حوالے سے اپنے ملک کا مؤقف پیش کیا۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ جاری جنگ میں فوجی طاقت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرونی فوجی دباؤ کے باوجود ایران اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔
ایرانی صدر نے تاہم تنازع کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے مطابق ایران جنگ کے بجائے سفارتی ذرائع کے ذریعے تنازع کو ختم کرنے کے امکان پر یقین رکھتا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں مسعود پزشکیان نے ایران کے مؤقف کو عالمی برادری کے سامنے پیش کرتے ہوئے فوجی دباؤ اور سفارتی کوششوں دونوں کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر بیان کیا۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ جاری جنگ میں فوجی طاقت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرونی فوجی دباؤ کے باوجود ایران اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔
ایرانی صدر نے تاہم تنازع کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے مطابق ایران جنگ کے بجائے سفارتی ذرائع کے ذریعے تنازع کو ختم کرنے کے امکان پر یقین رکھتا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں مسعود پزشکیان نے ایران کے مؤقف کو عالمی برادری کے سامنے پیش کرتے ہوئے فوجی دباؤ اور سفارتی کوششوں دونوں کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر بیان کیا۔



