خواجہ مہران نے اپنے بیان میں مطالبات کے حوالے سے کسی بھی قسم کے سمجھوتے کو مسترد کرنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔
خواجہ مہران کا کہنا تھا کہ مائیں اپنے بچے قربان کر گئیں اور بھائی شہید کر دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اور گھر کی کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وقت آنے پر جان بھی لینے کی بات کی، تاہم واضح کیا کہ مطالبات پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا۔
خواجہ مہران کے بیان میں قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبات کے حصول کے لیے اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا اظہار کیا گیا ہے۔ فراہم کردہ معلومات میں مطالبات کی تفصیلات بیان نہیں کی گئی ہیں۔
خواجہ مہران کا کہنا تھا کہ مائیں اپنے بچے قربان کر گئیں اور بھائی شہید کر دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اور گھر کی کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وقت آنے پر جان بھی لینے کی بات کی، تاہم واضح کیا کہ مطالبات پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا۔
خواجہ مہران کے بیان میں قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبات کے حصول کے لیے اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا اظہار کیا گیا ہے۔ فراہم کردہ معلومات میں مطالبات کی تفصیلات بیان نہیں کی گئی ہیں۔



