وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ یمن سے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان موجود مشترکہ دفاعی معاہدہ فعال ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح ہے اور اگر سعودی عرب پر بیرونی جارحیت یا یمن کی صورتحال کا براہِ راست اثر سعودی سرزمین تک پہنچتا ہے تو دفاعی معاہدے کی شقیں متحرک ہو سکتی ہیں۔
دفاعی وزیر کے بیان کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے مشترکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت ایک بار پھر نمایاں ہو گئی ہے۔ تاہم تازہ وضاحت کے مطابق پاکستان کی جانب سے اس وقت کسی فوجی ردعمل پر بات چیت نہیں ہو رہی اور معاہدے کے تحت عملی اقدام کا فیصلہ صورتحال کے مطابق کیا جائے گا۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح ہے اور اگر سعودی عرب پر بیرونی جارحیت یا یمن کی صورتحال کا براہِ راست اثر سعودی سرزمین تک پہنچتا ہے تو دفاعی معاہدے کی شقیں متحرک ہو سکتی ہیں۔
دفاعی وزیر کے بیان کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے مشترکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت ایک بار پھر نمایاں ہو گئی ہے۔ تاہم تازہ وضاحت کے مطابق پاکستان کی جانب سے اس وقت کسی فوجی ردعمل پر بات چیت نہیں ہو رہی اور معاہدے کے تحت عملی اقدام کا فیصلہ صورتحال کے مطابق کیا جائے گا۔



