پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ابرار قریشی نے عمران خان کی سیاسی جدوجہد کے حوالے سے سخت مؤقف کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی تبدیلی کی جنگ اب عوام اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان براہِ راست کشمکش کی صورت اختیار کرچکی ہے۔
ابرار قریشی کے مطابق عمران خان کی سیاسی جدوجہد کا اثر اب بھی برقرار ہے اور ان کی قید کے باوجود ان کے حامیوں میں سیاسی سرگرمی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں یہ کشمکش مزید نمایاں ہوسکتی ہے۔
انہوں نے عمران خان کے مستقبل کے سیاسی کردار کے حوالے سے بھی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد جیل میں رہنے تک محدود نہیں رہے گی۔ تاہم اس بیان میں کیے گئے دعوے اور پیش گوئیاں مقررہ سیاسی حالات کے تناظر میں ہی دیکھی جانی چاہئیں۔
بیان میں ستائیس ستمبر کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ ابرار قریشی نے اس دن ہونے والی ممکنہ سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے کہا کہ اس موقع پر واضح ہوگا کہ سیاسی میدان میں کس فریق کی پوزیشن مضبوط رہتی ہے۔
پاکستان میں سیاسی اختلافات کے باعث حکومت، اپوزیشن، عوامی حلقوں اور ریاستی اداروں کے درمیان تناؤ مسلسل بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ ایسے ماحول میں بڑے عوامی اجتماعات اور احتجاجی سرگرمیاں سیاسی صورتحال پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہیں۔
آنے والے دنوں میں خاص طور پر ستائیس ستمبر سے متعلق سیاسی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز رہے گی۔ تاہم کسی بھی ممکنہ صورتحال کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا اس وقت قبل از وقت ہوگا۔
ابرار قریشی کے مطابق عمران خان کی سیاسی جدوجہد کا اثر اب بھی برقرار ہے اور ان کی قید کے باوجود ان کے حامیوں میں سیاسی سرگرمی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں یہ کشمکش مزید نمایاں ہوسکتی ہے۔
انہوں نے عمران خان کے مستقبل کے سیاسی کردار کے حوالے سے بھی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد جیل میں رہنے تک محدود نہیں رہے گی۔ تاہم اس بیان میں کیے گئے دعوے اور پیش گوئیاں مقررہ سیاسی حالات کے تناظر میں ہی دیکھی جانی چاہئیں۔
بیان میں ستائیس ستمبر کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ ابرار قریشی نے اس دن ہونے والی ممکنہ سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے کہا کہ اس موقع پر واضح ہوگا کہ سیاسی میدان میں کس فریق کی پوزیشن مضبوط رہتی ہے۔
پاکستان میں سیاسی اختلافات کے باعث حکومت، اپوزیشن، عوامی حلقوں اور ریاستی اداروں کے درمیان تناؤ مسلسل بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ ایسے ماحول میں بڑے عوامی اجتماعات اور احتجاجی سرگرمیاں سیاسی صورتحال پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہیں۔
آنے والے دنوں میں خاص طور پر ستائیس ستمبر سے متعلق سیاسی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز رہے گی۔ تاہم کسی بھی ممکنہ صورتحال کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا اس وقت قبل از وقت ہوگا۔



