صحافی حامد میر نے مولانا فضل الرحمان کو دی جانے والی گرفتاری کی مبینہ دھمکیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا اپنی سیاسی زندگی میں گیارہ مرتبہ گرفتار ہو چکے ہیں اور بارہویں گرفتاری کے لیے بھی تیار ہیں۔ ان کے بیان میں مولانا فضل الرحمان کے سیاسی عزم اور گرفتاریوں کے حوالے سے ان کے مؤقف کا ذکر کیا گیا ہے۔
حامد میر کے مطابق عمران خان اور مولانا فضل الرحمان کو قریب لانے کا کریڈٹ شہباز شریف کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح حکومت سے فراغت کے بعد عمران خان کو مولانا فضل الرحمان کی اہمیت کا احساس ہوا، اسی طرح مسلم لیگ ن کو بھی اقتدار سے باہر ہونے کے بعد مولانا یاد آئیں گے۔
حامد میر نے اپنے تبصرے میں مزید کہا کہ ان کے خیال میں اس مرتبہ مولانا فضل الرحمان مسلم لیگ ن کے جال میں دوبارہ نہیں پھنسیں گے۔ ان کا بیان سیاسی جماعتوں کے باہمی تعلقات، اقتدار کے اثرات اور مستقبل میں ممکنہ سیاسی اتحادوں کے حوالے سے ایک تبصرے کے طور پر سامنے آیا ہے۔



