تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سیاسی شخصیت، مقبولیت اور بہادری کے حوالے سے اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے عمران خان کو برصغیر کی تاریخ میں ایک منفرد سیاسی رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سیاست میں آنے سے پہلے ہی ایک کرشماتی اور مقبول شخصیت تھے۔
حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ "برصغیر کی تاریخ میں پہلا سیاسی لیڈر آیا ہے جو سیاست میں آنے سے پہلے کرشماتی شخصیت بھی تھی اور پاپولر بھی تھا۔" ان کے مطابق عمران خان کی سیاسی مقبولیت صرف سیاست میں آنے کے بعد پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس سے پہلے بھی وہ عوام میں غیر معمولی شہرت رکھتے تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو بہت پہلے عمران خان کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ "اس آدمی سے پنگا لینا یہ کپڑے اتار دے گا۔" حفیظ اللہ نیازی کے مطابق عمران خان کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی کے نتائج ان کی توقع کے مطابق سنگین ثابت ہوئے۔
حفیظ اللہ نیازی نے عمران خان کی شخصیت کے ایک اور پہلو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "عمران خان جتنا بہادر آدمی میں نے پہلے نہیں دیکھا۔" ان کے مطابق موجودہ سیاسی حالات اور مشکلات کے باوجود عمران خان کا سیاسی کردار اور عوامی اثر نمایاں طور پر برقرار ہے۔
حفیظ اللہ نیازی کے اس بیان کے بعد عمران خان کی سیاسی مقبولیت، ان کی شخصیت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ طویل سیاسی کشمکش کے حوالے سے بحث ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔ ان کے بیان میں عمران خان کو ایک ایسے سیاسی رہنما کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کی مقبولیت اور ذاتی اثر و رسوخ نے ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ "برصغیر کی تاریخ میں پہلا سیاسی لیڈر آیا ہے جو سیاست میں آنے سے پہلے کرشماتی شخصیت بھی تھی اور پاپولر بھی تھا۔" ان کے مطابق عمران خان کی سیاسی مقبولیت صرف سیاست میں آنے کے بعد پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس سے پہلے بھی وہ عوام میں غیر معمولی شہرت رکھتے تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو بہت پہلے عمران خان کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ "اس آدمی سے پنگا لینا یہ کپڑے اتار دے گا۔" حفیظ اللہ نیازی کے مطابق عمران خان کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی کے نتائج ان کی توقع کے مطابق سنگین ثابت ہوئے۔
حفیظ اللہ نیازی نے عمران خان کی شخصیت کے ایک اور پہلو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "عمران خان جتنا بہادر آدمی میں نے پہلے نہیں دیکھا۔" ان کے مطابق موجودہ سیاسی حالات اور مشکلات کے باوجود عمران خان کا سیاسی کردار اور عوامی اثر نمایاں طور پر برقرار ہے۔
حفیظ اللہ نیازی کے اس بیان کے بعد عمران خان کی سیاسی مقبولیت، ان کی شخصیت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ طویل سیاسی کشمکش کے حوالے سے بحث ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔ ان کے بیان میں عمران خان کو ایک ایسے سیاسی رہنما کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کی مقبولیت اور ذاتی اثر و رسوخ نے ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔



